Doomsday

0
163
doomsday
https://www.google.com/

یومِ قیامت

الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، وبعد!

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ انسان کے آپسی ( معاملات ) عبادت کا اٹوٹ حصہ ہیں، رب کی بندگی کا نمایاں جزء ہیں۔

بندوں کے آپسی حقوق میں چھوٹوں پر بڑوں کا مشفق ہونا اور صغار کا احترامِ کبیر بجا لانا بھی ہے۔

بڑوں میں انبیاء علیہم السلام کے بعد، والدین، اساتذہ، امت کے سربراہان وامراء وغیرہ کی عزت واحترام ہو، بدنی یا مالی خدمت ہو،

خیال رکھنا ہو، دعا دینا یا لینا ہو، شریعتِ اسلامیہ ان سب امور کو عبادت کا درجہ دی ہے،

اور اس عبادت کو زمان ومکان سے مقید بھی نہیں کیا ہے، بلکہ ہر لمحہ،

ہر پل حتی المقدور، حسب ضرورت، اس کو انجام دینے کا پابند بنائی ہے۔

عصرِ حاضر کے تکلفات

معاملات اور میل جول میں ماڈرن زمانے کا یہ فیشن ہے کہ بڑوں کے احترام اور ان رعایت میں، ایک دن طے کر دیا گیا ہے،

یورپ بہت پہلے سے یہ کالے دن دیکھ رہا ہے۔

مگر بھارت کی نئی نسل تعلیم اور روزگار کے حوالے سے یورپ میں رہنے بسنے کی وجہ سے اس کلچر کے خدوخال ان میں نمایاں نظر آ رہے ہیں۔

ہر دو دن میں سوشل میڈیا پر لفظ ( یوم ) کسی بھی بزرگ اور محترم ہستی کے ساتھ لگا نظر آتا ہے

کہ آج ہم سب فلاں کے لیے خصوصی طور پر متوجہ ہو رہے ہیں، جیسے:

یومِ والدین، یوم اساتذہ، یومِ خواتین، یومِ اطفال، یومِ امن، یومِ تعلیم، یومِ صحت، سمیت اور بھی متعدد ناموں سے کسی دن کو ایک مناسبت سے جوڑ دیا گیا ہے،

ان میں سے کچھ عالمی ہیں اور کچھ علاقائی ہیں۔

یومِ قیامت

دورِ حاضر کا انسان بھلے ہی نیک نیتی کے ساتھ نیکیوں کو انجام دینے، کسی کی مدد کرنے، کسی کو خوش کرنے،

اور خوشحال دیکھنے کے لیے، بلکہ اپنی نجی خواہشات کی تکمیل کے لیے کسی دن کو متعین کر دے رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

لیکن انسان پر یہ بھی ضروری ہے کہ سال کے 360 دنوں میں، ہر دن، ہر لمحہ اپنی نجات کے لیے فکر مند رہے،

رب کی رضا کے حصول کے لیے جد وجہد اور سعی کرے،

اور نجات کا وہ دن ہمیشہ اپنی دل کی آنکھوں کے سامنے رہے جسے ہم سب کے خالق، الہِ واحد، معبودِ برحق، غفورٌ رحیم، عزیزٌ ذو انتقام؛ اللہ رب العالمین نے ( یومِ قیامت ) سے موسوم کیے ہیں!

اے انسان! دنیا کی اس رنگینی میں، اور یہ دن وہ دن منانے میں اس ( یوم ) سے غافل نہ ہو جائے

جس دن رب کے حضور اکیلا جواب دِہ ہونا پڑے گا، اور اس دن سے متعلق اپنے رب سے کیے ہوئے عہد سے بے خبر نہ رہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنۢ بَنِىٓ ءَادَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُواْ بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَآ ۛ أَن تَقُولُواْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَٰفِلِينَ﴾.

اور آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟

سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔

تاکہ تم لوگ ( یومِ قیامت ) یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ ( الأعراف: 172 ).

آیت کا ترجمہ مولانا محمد جوناگڈھی (ت 1942م) رحمہ اللہ کا کیا ہوا ہے،

بس عنوان کی نزاکت کے پیشِ نظر ( قیامت کے روز ) کو ( یومِ قیامت ) سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here