Ghar Se Bhagne Walin Ladkiyan Sun lo !!!

0
154
Ghar Se Bhagne Walin Ladkiyan Sun lo
https://www.google.com/

شراون سوموار سے قبل کی رات وہ بھی اکوٹ فائل پولس اسٹیشن کے سامنے جہاں انتہائی جوش و خروش کے ساتھ ہزاروں شردھالوں پالکیوں کی تیاری و اسے لے جانے کا اہتمام کر رہے تھے۔

پولس اسٹیشن کےہر چار اکناف میں ایک بڑی تعداد میں پولیس پھلی ہوئی تھی اس وقت رات کے 10:45 ہورہےتھے۔

اکوٹ فائل کے ایک بچی کے والد کو پولس اسٹیشن سے فون آتا ہے

کہ 40 روز قبل آپ کی رپوٹ کے مطابق آپ کی بچی جورات 3 بجے گھر سے غائب ہوئی تھی وہ ابھی ابھی تھانے میں آئی ہے۔آپ جلد آؤ۔۔۔۔

بچی کے والد نے خوشی بھرا پہلا فون مجھے کیا اور تھانے میں ساتھ چلنے کے لئے کہاں۔

چند ہی منٹوں میں مستقل بچی کو تلاش کرنے والے کئی نوجوان وہاں حاضر ہوگئے۔

تھانے میں پہنچ کر، وہاں کے منظر کو دیکھ کر سب کا دماغ چکرا گیا

ملت کی بیٹی ساڑی پہنے،سر میں سندور لگائے،

بندیا پہنے اپنے غیر مسلم شوہر کےساتھ ہاتھ میں آریاسماج میں شرکت وشیرڈھی میں ہوئی

شادی کاسرٹیفکیٹ لئےبہت ہمت و ڈیرنگ کے ساتھ مقابلے کے لئےبیٹھی ہوئی تھی

بچی کی پیدائش سے لے کر مستقل آج ۲۱ سال تک لاڈ و پیار سے بچی کی پرورش کرنے والا

باپ آنکھوں میں یہ امید لئےکے مستقل تلاش وجدوجہدکے بعد آخر میری بچی مل ہی گئی

اب وہ میرے ساتھ میرے گھر چلے گی اور اس پر ہوئے ظلم و ستم کی داستان سنائے گی۔
لیکن باپ کی لب کشائی سے قبل بیٹی کہتی ہے کہ

“میں بالغ ہو اور میں نے اپنی پسند سے اس مذہب کو قبول کیا

اور اس لڑکے سے شادی کی میرا آپ سے کوئی تعلق نہیں”

وہاں موجود تمام افراد کا یہ الفاظ سنا تھا کے نظریں مارے شرم کے نیچے ہوگئی
تن بدن میں آگ لگ گئی۔

باپ نے اپنے جزبات کو قابو میں رکھ کر بڑے پیار و محبت سےبیٹی کو سمجھایا کے بیٹی میرے لاڈ و پیار میں کیا کمی رہ گئی تھی

کہ تو نے یہ قدم اٹھایا، مجھ سے اگر کوئی کمی رہ گئی یا غلطی ہوگئی

تو مجھے معاف کردے لیکن بچی ٹھس سے مس نہ ہو ئی

باپ نے اپنے ساتھ چھوٹے بیٹے کو لے آیا تھا لیکن اس نے اس معصوم بچے اور اپنے حقیقی بھائی سے بھی بات کرنا پسند نہیں کی۔

اس دوران اس کے شوہر پر ڈر اور خوف طاری تھاوہ بار بار دروازے کے پیچھے چھپا جارہا تھا۔

لیکن ہمت صرف لڑکی میں دکھائی دے رہی تھی
شاید اسے تربیت دے کر لایا گیا تھا۔

تقریباً ٣٠ منٹ لڑکی تھانے میں رہی اس کے بعد اسے پولس گاڑی میں بٹھائی تو میری نظرے اس لڑکی کی جانب ہی تھی

اور اس کے والد میرے بازوں ہی تھے۔ لیکن لڑکی نے ایک نظر باپ کی طرف نہیں دیکھی

وہ گاڑی میں بیٹھ کر رام داس پیٹھ پولس اسٹیشن چلی گئ۔

پھر وہاں سے شوہر کے گھر۔

آخر باپ حسرت بھری نظروں سے بچی کو دیکھتا
رہا۔

یہ واقعہ میری زندگی میں میری نظروں کے سامنے پہلی مرتبہ پیش آیا

کہ ایک مسلم بچی، ایمان والی کفر میں داخل ہو گئی

اور ہم ہندوستانی قانون کے سامنے صرف اسے دیکھتے ہی رہیں۔

بعد از میں نے اس کے والد کو گھر کی طرف لے گیا انہیں تسلی دی،

ان کی ڈھارس بندھائی اور صبر سے کام لینے ساتھ ہی بقیہ ٣ بچوں پر خصوصی توجہ دے کر ان کی تربیت کرنے کی تاکید کی۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس بچی میں ایمانی غیرت کو بیدار کرے،اس کے والد،

بھائی،بہنوں، لواحقین اور ملت اسلامیہ کو صبر کا دامن تھامے رہنے اور معاشرے کو اس خرابی سے پاک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Baccho ko isse kaise bachaya jaye

1) “والدین کی لاپرواہی” جس کے لئے بہترین تربیتی نظام بنایا جائے۔

2) “موبائل و انٹرنیٹ کا کثیر استعمال”۔

وقت ضرورت استعمال کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے.

3) “ڈرائور و دکانداروں کا ایٹرکشن”۔

ان لوگوں پر سماج کے افراد نظر رکھے اور ان کی ایمانی غیرت کو بیدار کریں۔

4) “مخلوط نظام تعلیم”

ہر اسکول و کالج میں طلباء و طالبات کے لئے بیٹھنے کا الگ الگ انتظام کیا جائے ساتھ ہی آنے اور جانے کے دوران ٣٠ منٹ کا فرق رکھا جائے۔

5) “خواتین کی دینی تربیت کا فقدان”۔

مساجد ،مدارس یا خصوصی مراکز کے دروازے اب خواتین کے لئے کھول دئے جائیں۔ ان شاءاللہ دین سیکھنے ملے گا اور ایمان بڑے گا۔

6) “سماج کے بزرگوں کا کچھ نہ کہنا”.

ہر محلے میں اثر رکھنے والے بزرگوں کو منظم کرکے انہیں سماج پر نظر رکھنے کی تاکید کی جائے

7) “تمام فیلڈس کے مسلم اعلی تعلیمی اداروں کا شہر میں نہ ہونا”.

سرمایہ دار افراد سامنے آئے اور بہت معیاری طرز پر اعلیٰ تعلیمی ادارے چلائے۔

8) “طلباء و طالبات ساتھ ہی مرد و خواتین کا دینی تنظیموں سے وابستہ نہ ہونا”۔

وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہم مع اہل و عیال دینی تنظیموں, تحریکوں اور جماعتوں سے اپنے آپ کو منسلک کرلیں اور اس کے نظم کی سختی سے پابندی کریں۔

۹) محلہ یا مسجد وار پریشرگروپ ہر میدان کے افراد پر مشتمل بنایا جائے”

ان شاءاللہ مسائل حل ہوں گے اور امت کا تحفظ اور ترقی ہوگی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here