Health insurance krane Ka Hukm

0
505

آج کے زمانے میں جو صحت کا بیمہ
( ہیلتھ انشورنس ) کا کام کمپنیوں نے شروع کیا ہے کیا مسلمان اس پالیسی میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ جیسا کہ بعض مسلم ممالک میں ہیلتھ انشورنس کے ضروری ہونے کا اعلان کیا گیا ہے کیا بھارت دیش میں بھی ہم صحت کا بیمہ کراسکتے ہیں ؟

عصر حاضر میں صحت کے بیمہ کی دو شکلیں رائج ہیں ، ایک تجارتی بیمہ ( commercial insurance ) دوسرا تعاونی بیمہ جس کو عربی میں التامین التعاونی اور انگلش میں ( Mutual insurance ) کہا جاتا ہے ، تجارتی بیمہ کا طریقہ یہ ہے کہ بیمہ کرانے والا بیمہ کمپنی کو ایک معینہ مدت تک کچھ قسطیں ادا کرتا ہے جس کو پریمیم کہتے ہیں ، ان قسطوں اور ان کے رقم کی تعیین طبی معائنہ کے ذریعہ ایک اندازہ لگا کر کی جاتی ہے ، مثلا کمپنی نے بیمہ کرانے والے شخص کی صحت کا طبی معاینہ کراکے اندازہ لگایا کہ ایک سال میں اس کے علاج پر زیادہ سے زیادہ ۱۲ / ہزار روپے خرچ ہوں گے تو کمپنی 1000 کا بارہ قسطیں مقرر کرتی ہے اور ہر مہینہ ایک ہزار کی ایک قسط جمع کرنی پڑتی ہے اور بیمہ کرانے والا سال بھر جب بھی بیمار ہو گا کمپنی اس کا علاج کرائے گی خواہ اس علاج پر ۱۲ / ہزار سے زیادہ خرچ ہو یا کم ، اور بیمہ کرانے والے شخص سے جو رقم جمع ہوتی ہے یہ بیمہ کمپنی اسے بینک میں جمع کرکے اس پر سود لیتی ہے ، انشورنس کا یہ طریقہ اسلام جائز نہیں ہے – ،،

کیوں کہ اس میں سود و قمار اور غرر و ضرر ہیں ،
کیوں کہ بیمہ کمپنیاں قسطوں کی رقم بینکوں میں جمع کرکے اس پر سود لیتی ہیں نیز بیمہ کرانے والے کی طرف سے پریمیم کی یہ رقم اس کی ادائیگی متعین ہوتی ہے لیکن معاوضہ ( علاج پر خرچ ہونے والی رقم ) مجہول ہوتی ہے اور ادا کردہ رقم واپس نہیں ہوتیں خواہ آدمی بالکل بیمار نہ ہو

اور التامین التعاونی یعنی تعاونی بیمہ کا طریقہ کار یہ ہے کہ کچھ لوگ مل کر ایک فنڈ قائم کرتے ہیں اس کا مقصد ممبران میں سے کسی کے ساتھ پیش آنے والے حادثے میں اس کی مدد کرنا ہوتا ہے
مثلا سو ( 100 ) اشخاص مل کر ایک ایک ہزار روپیہ سالانہ جمع کرتے ہیں تاکہ اس رقم سے آپس میں کسی ممبر کے ساتھ پیش آنے والے حادثے میں اس کی مدد کریں رقم کم پڑنے پر دوبارہ رقم ڈالی جاتی ہے اور رقم بچے تو وہ اگلے سال کیلئے جمع ہو جاتی ہے ، اس رقم پر کوئی سود نہیں لیا جاتا اور اس میں تجارت کرنا اور نفع کمانا مقصد نہیں ہوتا ہے  ،،

بلکہ باہم مل کر ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے جو سب کے نزدیک جائز ہے ، ہندوستان میں ہیلتھ انشورنس کا موجودہ نظام پہلے طریقے پر مبنی ہے جس میں سود جوا اور ضرر و غرر ہے ، اس واسطے شرعا جائز نہیں ہے ، البتہ جس ملک میں صحت کا بیمہ کرانا لازمی اور ضروری ہو وہاں مجبوری کی وجہ سے کرایا جا سکتا ہے ورنہ حتی الامکان بچنا چاہیے

جیسا کہ اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :
( لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَا )
” اللہ تعالٰی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ،،
( سورۃ البقرۃ : 286 )

نیز اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے :
( فَاتَّقُوا اللّٰہَ  مَا  اسۡتَطَعۡتُمۡ )
” پس جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو ،،
( سورۃ التغابن : 16 )

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here