injeel kuraan majeed kuraan majeed ke baad asamaanee kitaaben

0
90
🌻﷽🌻
تم جانتے ہو اللّٰہ ہی ہمارا مالک ہے – ہم اس کے بندے اور غلام ہیں – اور اس کے تابعدار ہیں ہمارا کام یہی ہے کہ ہر حال میں اس کی بندگی اور تابعداری کریں – ہر کام میں اس کی مرضی کا خیال رکھیں – لیکن تم دیکھتے ہو کہ جب تک تمہارے ماں باپ اپنی مرضی ظاہر نہیں کرتے اس وقت تم کو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کی مرضی کا کون سا کام ہے -، تم کسی کام کو کرتے ہوئے ڈرتے بھی ہو کی ایسا نہ ہو کہ یہ کام ماں باپ کی مرضی کے خلاف ہو اور وہ ناراض ہو جائیں تو بھلا بتاؤ کی اللّٰہ کی مرضی کو ہم اس کے بتائے بغیر کیسے جان سکتے ہیں -، ہر کام میں یہی ڈر رہتا ہے کہ کہیں یہ اللّٰہ کو ناپسند تو نہیں – اور وہ ہمارے اس کام سے ناراض تو نہیں ہو گا اس لیے اللّٰہ پاک کی  یہ مہربانی ہے کی اس نے اپنی مرضی کے کام بتانے کے لئے کچھ اچھے اچھے انسانوں کو رسول اور نبی بنا کر دنیا میں بھیجا انہی احکام اور پیغامات کو جن کتابوں میں لکھا گیا وہی آسمانی کتابیں کہلاتی ہیں – 
کیونکہ ان میں جو باتیں لکھی تھیں وہ سب اللّٰہ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ آسمان سے اتاری تھیں -، 
جب تک رسول اور نبی دنیا میں تھے لوگ ان کی باتوں پر عمل کرتے تھے اور جب وہ دنیا سے گزر گئے تو آہستہ آہستہ لوگ ان کی باتوں کو بھول گئے اور اللّٰہ کی کتابوں کو پڑھنا چھوڑ دئے جس کے نتیجہ میں نیکی دب گئی اور برائی کے کام زیادہ ہونے لگے ،،
بعض لوگوں نے اللّٰہ تعالی کی کتابوں میں کانٹ چھانٹ شروع کر دیا اللّٰہ کے حکم کو مٹا دیتے اور اس کی جگہ اپنی مرضی کے مطابق کوئی اور حکم نہیں دیتے – جب اس کانٹ چھانٹ کی وجہ سے اللّٰہ کی بھیجی ہوئی کتاب نہیں ملتی تو لوگ اور زیادہ برے کام کرنے لگتے -، 
جب برائی بڑھ گئی اور گناہ کے کام زیادہ ہونے لگے تو پھر اللّٰہ تعالی نے دوسرا رسول بھیج دیا -، اور دوسری کتاب بھی بھیج دی – سب سے آخر میں ہمارے حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم آئے اور آخری کتاب قرآن مجید آپ کو ملی -، 
🌻اللّٰہ کی بھیجی ہوئی چار مشہور کتابیں : 
(1) توریت 
(2) زبور 
(3) انجیل 
(4) قرآن مجید 
🌻توریت : 
یہ کتاب اللّٰہ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملی تھی -، موسیٰ علیہ السلام جس قوم کے نبی تھے اس کو یہود اور یہودی کہتے ہیں -، یہود نے اس کتاب میں بہت ردّوبدل کر ڈالا ہے – بلکہ اس وقت جو توریت موجود ہے وہ موسیٰ علیہ السلام کی وفات کی تین سو برس بعد لکھی گئی تھی – 
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :
بہترین بات اللّٰہ کی کتاب ہے ، اور بہترین سیرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سیرت ہے ، اور بدترین امور بدعتیں ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے – ،،
جیسا کہ اللّٰہ رب العالمین کا فرمان ہے : ﴿ إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَاةَ فِيهَا هُدًى وَنُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِن كِتَابِ اللَّـهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ ﴾
( سورۃ المائدة : 44 )
” ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت و نور ہے،
یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللّٰہ تعالی کے ماننے والے انبیاء  ( علیہ السلام  ) اور اہل اللہ اور علماء
فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللّٰہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا – اور وہ اس پر قراری گواہ تھے اب تمہیں چاہیے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا ڈر رکھو ، میری آیتوں کو تھوڑے تھوڑے مول پر نہ بیچو ، جو لوگ اللّٰہ کی اتاری ہوئی وحی کے ساتھ فیصلے نہ کریں وہ پورے اور پختہ کافر ہیں – ،،
اس آیت کے شان نزول میں دو واقعات بیان کیے جاتے ہیں -، ایک تو دو شادی شدہ ہیں یہودی زانیوں ( مرد و عورت ) کا -، انہوں نے اپنی کتاب ، تورات میں تو ردّوبدل کیا ہوا تھا -، اور اس کی کئی باتوں پر عمل بھی نہیں کرتے تھے – انہی میں سے ایک حکمِ رجم بھی تھا جو ان کی کتاب میں شادی شدہ زانیوں کے لئے تھا اور اب بھی موجود ہے ، لیکن وہ چونکہ اس سزا سے بچنا چاہتے تھے ، اس لیے آپس میں فیصلہ کیا کہ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاس چلتے ہیں اگر انہوں نے ہماری ایجاد کردہ طریقہ کے مطابق کوڑے مارنے اور منہ کالا کرنے کی سزا کا فیصلہ کیا تو مان لیں گے -، اور اگر رجم کا فیصلہ دیا تو نہیں مانیں گے چنانچہ عبد اللّٰہ بن عمر فرماتے ہیں کہ یہود نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ تورات میں رجم کی بابت کیا ہے ؟ انہوں نے کہا تورات میں زنا کی سزا کوڑے مارنا اور رسوا کرنا ہے – عبد اللّٰہ بن سلام نے کہا ، تم جھوٹ کہتے ہو ، تورات میں رجم کا حکم موجود ہے – جاؤ ، تورات لاؤ ، تورات لا کر وہ پڑھنے لگے تو آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی آیت پڑھ دیں – عبد اللّٰہ بن سلام نے کہا ہاتھ اٹھاؤ ، ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیتِ رجم تھی ، بلآخر انہیں اعتراف کرنا پڑا کی محمد صلی اللّٰہ علیہ و سلم سچ کہتے ہیں ، تورات میں آیتِ رجم موجود ہے -، چنانچہ دونوں زانیوں کو سنگسار کر دیا گیا – ،،
ایک دوسرا واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ یہود کا ایک قبیلہ اپنے آپ کو دوسرے یہودی قبیلے سے زیادہ معزز اور محترم سمجھتا تھا اور اسی کے مطابق آپ نے مقتول کی دِیَت ١٠٠ وسق اور دوسرے قبیلے کے مقتول کی پچاس وسق مقرر کر رکھی تھی -، 
جب نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے ، تو یہود کے دوسرے قبیلے کو کچھ حاصل ہوا ، جس کے مقتول کی دِیَت نصف تھی ، اور اس نے دِیَت میں ١٠٠ وسق دینے سے انکار کر دیا -، قریب تھا کہ ان کے درمیان اس مسئلے پر لڑائی چھڑجاتی ، لیکن ان کے سمجھدار لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے فیصلہ کرانے پر رضامند ہو گئے جن میں سے ایک آیت میں قصاص میں برابری کا حکم دیا گیا ہے ،،
( مسند احمد جلد ١ ، ص 246 رقم الحدیث 2212 )

🌻زبور : 

یہ کتاب اللّٰہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر اتاری گئی تھی – اس کتاب میں بھی لوگوں نے کمی بیشی کر دی تھی ، زبور عبرانی زبان میں نازل ہوئی -، 
زبور حضرت داؤد علیہ السلام جن کی خوش الحانی اور قراءت سے انسان چرند پرند بھی مسحور ہو جاتے تھے – زبور کا قرآن مجید میں 16 بار ذکر ہے ، زبور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ،،

🌻 انجیل : 

یہ کتاب حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل کی گئی تھی -، جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا تو ان کے بعد ان کی امت نے اس میں بھی تبدیلی کر ڈالی – اصل انجیل اب دنیا میں کہیں موجود نہیں ہے – حضرت عیسی علیہ السلام کی امت کو عیسائی کہتے ہیں ،، اور یہ بھی زبور کی طرح  عبرانی زبان میں نازل ہوئی ،، 
اللّٰہ تعالی کا فرمان : ﴿ وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِم بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنجِيلَ فِيهِ هُدًى وَنُورٌ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ ﴾
( سورۃ المائدۃ : 46 )
” اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے انہیں انجیل عطا فرمائی جس میں نور اور ہدایت تھی اور وہ اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور وہ سراسر ہدایت اور نصیحت تھی پارسا لوگوں کے لئے ،،
ایک جگہ اور اللّٰہ رب العالمین کا فرمان ہے :    وَلْيَحْكُمْ أَهْلُ الْإِنجِيلِ بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فِيهِ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ
( سورۃ المائدۃ : 47 )
” اور انجیل والوں کو بھی چاہیے کہ اللّٰہ تعالی نے جو کچھ انجیل میں نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق حکم کریں اور جو اللّٰہ تعالی کے نازل کردہ سے ہی  حکم نہ کریں وہ بدکار فاسق ہیں ،، 

🌻نزول قرآن کے بعد ، تمام آسمانی کتابیں منسوخ ہوگئی ہیں :
یعنی جس طرح تورات اپنے وقت میں لوگوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ تھی اسی طرح انجیل کے نزول کے بعد اب یہی حیثیت انجیل کو بھی حاصل ہو گئی اور پھر قرآن کریم کے نزول کے بعد تورات و انجیل اور دیگر صحائف آسمانی پر عمل منسوخ ہوگیا ،، 
اور ہدایت و نجات کا واحد ذریعہ قرآن کریم رہ گیا اور اسی پر اللّٰہ تعالی نے آسمانی کتابوں کا سلسلہ ختم فرما دیا ،،

 🌻قرآن مجید : 

یہ کتاب جیسی نازل ہوئی تھی ویسی ہی اب تک باقی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی -، یہ کتاب اللّٰہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر اتری تھی اب اس کتاب کو ماننا ضروری ہے – جو اس کتاب پر ایمان نہ لائے گا اس کی کوئی نیکی اور عبادت اللّٰہ کے یہاں قبول نہیں ہوگی -،
قرآن عظیم وہ کتاب ہے جس میں شک کی گنجائش نہیں ،، یہ پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے –
قران دنیا کی تمام کتابوں میں سے بہترین کتاب ہے ،
اللّٰہ تعالی فرمایا : تم یہاں میری تلاوت کیا کرو میں قبر میں تمہاری حفاظت کیا کروں گا ،،
حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : قرآن کریم کی تلاوت اور اللّٰہ تعالی کے ذکر کا اہتمام کیا کرو اس عمل سے آسمانوں میں تمہارا ذکر ہوگا اور یہ عمل زمین میں تمہارے لئے ہدایت کا نور ہے – ( بیہقی )
نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
تم میں سے سب سے بہتر شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ،،( بخاری )
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : قرآن کی تلاوت کرو ، کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے اصحاب کے لیے سفارشی بن کر آئے گا – ( مسلم )
سیدہ عائشہ رضی اللّٰہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھ پاتا ہے ، اور اس کو پڑھنے میں اس کو مشقت ہوتی ہے تو اس کے لئے دوگنا اجر ہے – ،،
( صحیح بخاری : 4937 )
🌻قرآن مُصدِّق بھی ہے مہیمن بھی :
ہر آسمانی کتاب ، اپنے سے ماقبل کتاب کی مُصدِّق رہی ہے ، جس طرح قرآن پچھلی تمام کتابوں کا مُصدِّق رہا ہے اور تصدیق کا مطلب ہے کہ یہ ساری کتابیں
 فِی الۡوَاقِع اللّٰہ کی نازل کردہ ہیں – لیکن قرآن مصدق ہونے کے ساتھ ساتھ مہیمن ( محافظ ، امین ، شاہد اورحاکم ) بھی ہے یعنی پچھلی کتابوں میں چونکہ تحریر و تغیر بھی ہوئی ہے – اس لیے قرآن کا فیصلہ ناطق ہوگا ، جس کو یہ صحیح قرار دے گا ، وہ صحیح ہے باقی باطل ہے – ،،
آخر میں اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآن مجید پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے 🌻آمین🌻 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here