Khwaab me peshab hojaye to kya kamar ke niche se dhoker namaz padh sakte hain

0
231
Khwaab me peshab hojaye to kya kamar ke niche se dhoker namaz padh sakte hain

ســـــوال
کوئی رات کے وقت سونے کی حالت میں رات میں پیشاب کررہا تھا، مگر نیند کھل گئ فوراً اٹھ کر اس نے کمر سے نیچے کا حصہ دھو ڈالا اور نماز پڑھ لی تو کیا اس کی نماز درست ہے❓

جـــــواب

اگر حالت خواب یا بیداری میں پیشاب کرتے ہوئے کسی کے کپڑے یا بدن میں پیشاب لگ جائے تو اس پر غسل واجب نہیں لیکن ایسی صورت میں جسم اور کپڑے کے ہر حصے کو دھونا ضروری ہے

جہاں پیشاب لگا ہو، یا جہاں شک ہو کہ پیشاب لگا ہے، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
“تنزهوا من البول، فإن عامة عذاب القبر منه”(سنن الدارقطنی : کتاب الطھارۃ، باب نجاسۃ البول والامر بالتنزہ منہ، وقال الالباني : صحيح)

پیشاب سے بچو، اس لئے کہ زیادہ تر عذاب قبر پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے.”

اور اس قسم کی گندگیوں سے پاک وصاف رہنے کےلئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
《وثيابك فطهر》 (سورہ المدثر /٤)

“اور اپنے کپڑوں کو پاک وصاف کرو.”

اس لئے اگر بدن یا کپڑے میں کہیں بھی پیشاب لگا رہ گیا اور اسی حالت میں نماز پڑھ لی تو وہ نماز درست نہیں ہوگی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
“لا تقبل صلاة بغير طهور” (صحیح مسلم : کتاب الطھارۃ، باب وجوب الطھارۃ للصلاۃ)

” بغیر طھارت کے نماز قبول نہیں ہوتی”.

اور بدن اور کپڑے کو پاک وصاف کرکے نماز کا اعادہ کرنا پڑے گا، اور اگر بدن اور کپڑے میں کہیں بھی پیشاب نہیں لگا رہ گیا تھا تو نماز درست ہے، اور اعادہ کی ضرورت نہیں.

Kapde me mani ya mazi lag jaye to kitna kapda dhoyen

ســـــوال
اگر کپڑے میں منی یا مذی وغیرہ لگ جائے تو جتنے میں منی وغیرہ لگی ہے اتنے کا ہی دھونا ضروری ہے یا پورے کپڑے کو دھونا پڑے گا❓

جــــــواب

جتنے حصے میں منی یا مذی لگی ہے اتنے ہی کپڑے کا دھونا واجب ہے، پورے کپڑے کو دھونا ضروری نہیں، سلیمان بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کپڑے میں منی لگ جانے کے بارے میں پوچھا

تو انھوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے اسے (منی) دھو دیتی تھی پہر آپ نماز کے لئے نکلتے اس حال میں کہ کپڑے میں اس کے دھونے کا اثر ظاہر رہتا. (متفق علیہ)

اور معلوم ہے کہ کپڑے میں دھونے کا اثر یا دھبہ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب اس کا کچھ حصہ دھویا جائے اور کچھ نہ دھویا جائے، اور پورے کپڑے کو دھونے سے سب ایک طرح کا ہوجاتا ہے اس میں دھبے نہیں پڑتے.

اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پورے کپڑے کو نہیں دھوتی تھیں بلکہ جہاں جہاں منی لگی رہتی تھی انھیں جگہوں کو دھوتی تھیں.

Mani kya hai

١) مـــنـی : مباشرت یا احتلام یا استمناء(مشت زنی) کے بعد اچھل کر نکلنے والا گاڑھا سفید پانی جس میں بو بھی ہوتی ہے. (غسل واجب ہے)

Mazi kya hai

٢) مـــذی : خواہش جاگنے یا بوس وکنار کی صورت میں باریک پتلا پانی. (غسل واجب نہیں ہوتا) البتہ وضو ٹوٹ جاتا ہے. وضو واجب ہے.

Wadi kya hai

٣) ودی : پیشاب اور پاخانہ کے وقت نکلنے والا سفید گاڑھا پانی لیکن اس میں شہوت اور لذت نہیں ہوتی. (غسل واجب نہیں ہوتا) البتہ وضو ٹوٹ جاتا ہے. وضو واجب ہوتا ہے

https://www.hindiarth.in/khwab-mein-peshab-dekhna-%E0%A4%96%E0%A5%8D%E0%A4%B5%E0%A4%BE%E0%A4%AC-%E0%A4%AE%E0%A5%87-%E0%A4%AA%E0%A5%87%E0%A4%B6%E0%A4%BE%E0%A4%AC-%E0%A4%A6%E0%A5%87%E0%A4%96%E0%A4%A8%E0%A5%87-%E0%A4%95%E0%A4%BE/

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here