Mayyat Ki Taraf Se Roza Rakhne Ka Hukm

0
1460

میت کی جانب سے اس کا ولی صرف نذر کے روزے رکھے گا یا رمضان غیرہ کے روزے بھی رکھ سکتا ہے ؟ میت کی جانب سے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے

جیسا کہ حدیث ہے :
” من مات وعلیہ صیام صام عنہ ولیہ ،،
صوم سے خاص نذر کے روزے مراد ہیں یا رمضان کے روزے بھی اس کے عموم میں داخل ہیں ؟

راجح یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی مذکورہ بالا حدیث کے عموم میں نذر کے روزے رمضان کے فرض روزے اور کفارہ کے واجب روزے سبھی داخل ہیں ، اور میت کے ذمہ ان روزوں میں سے کسی قسم کا روزہ باقی ہو تو اس کا ولی اس کی جانب سے رکھے گا ، اور وہ اس کی وجہ سے بری الذمہ ہوجائے گا –

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جو یہ مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے ، اور ان کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں تو کیا میں ان کی جانب سے قضاء کروں ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تمہاری ماں کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اس کو ادا کرتے ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو اللہ کا قرض ادا کرنے کا زیادہ حق رکھتا ہے –
( صحیح البخاری ، باب من مات وعلیہ صوم )

اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم تمام واجب روزوں کو شامل ہے ، کیوں کہ جیسے نذر کے روزے واجب اور میت کے ذمہ قرض ہیں ، اسی طرح رمضان اور کفارہ کے روزے بھی واجب اور اس کے ذمہ قرض ہیں ، اور بعض روایتوں میں جو
” ماتت وعلیھا صوم نذر ،،وارد ہے

اس میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں کوئی تعارض نہیں ، کیوں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں قاعدہ عامہ  کا تذکرہ ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس کی صرف ایک صورت کا تذکرہ ہے ، اور ولی سے مراد اس کا قریبی رشتہ دار ہے ، خواہ وارث ہو یا عصبہ ہو یا کوئی اور ہو –

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here