Sad Of The World

0
198
Sad Of The World
https://www.google.com/

غـــمِ دنـــیــــا

دنیا میں انسان کی بہت ساری خواہشیں اور آرزوئیں ہوتی ہیں ۔

لیکن جب اس کی وہ خواہشیں پوری نہیں ہوتی تو وہ مایوس ہوکر بہت غمگین ہوجاتا ہے۔

حتی کہ وہ اپنے غم کا اظہار اس طرح سے کرنے لگتا ہے گویا کہ اس سے صبر مفقود ہوچکا ہو۔

حالانکہ اللہ کا فرمان ہے۔
لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتَاكُمْ ۗ وَاللّـٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ. (سورةالحدید، ٢٣)

تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے اس پر رنج نہ کرو اور جو تمہیں دے اس پر اتراؤ نہیں،

اور اللہ کسی اترانے والے شیخی خور کو پسند نہیں کرتا۔

بے صبری جو انسانوں کے اندر بکثرت پائ جاتی ہے۔

یہ بہت بری عادت ہے اس کی وجہ سے وہ معمولی مصیبت وپریشانی بھی برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔

معمولی معمولی باتوں پر غمگین ہوجاتا ہے اور غیرشرعی واویلا کرنے لگتا ہے۔

حتی کہ وہ اپنے اس نازیبا حرکت کی وجہ سے اجرسے محروم کردیا جاتا ہے۔

کبھی خواہشوں کا ادھورا رہ جانا
کبھی امیدوں کا ٹوٹ جانا
کبھی خوابوں کا بکھر جانا
کبھی تکلیفوں کا بڑھ جانا
زندگی کی راہوں میں یہ سب آتے ہیں
مگر یہ دور گزرجاتے ہیں، گزر جاتے ہیں.

یہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ اللہ تعالی ہمیں کبھی خوشیاں دے کر آزماتا ہے

اور کبھی غموں میں مبتلا کر کےہمارا امتحان لیتا ہے۔

علاوہ ازیں زندگی میں کبھی کبھی آزمائشیں مزید سخت ہوجاتی ہیں

کہ اس موقع پر انسان اپنی بے بسی کا ادراک شدت سے کرنے لگتاہے

لہذا ایسے موقع پر صبر کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیئے

اور ساتھ ہی ساتھ تقدیر پر ایمان بھی مضبوط کرنا چاہیئے کہ اللہ نے جو مقدر میں لکھ دیا ہے وہ مل کر ہی رہے گا

اور جو مقدر میں نہیں ہے وہ نہیں مل سکتا،

ہوسکتا ہے کہ نہ ملنے میں مصلحت ہو۔

کیونکہ اللہ تعالی فرماتا ہے:
عَسَىٰٓ أَن تَكْرَهُواْ شَيْـًٔا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰٓ أَن تُحِبُّواْ شَيْـًٔا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونٙ.(سورة البقرة،٢١٦)

ممکن ہے تم کسی چیز کو ناگوار سمجھو

اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو، اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو

اور وہ تمہارے لیے مضر ہو، اور اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

دنیوی معاملے میں انسان کا کسی بھی طرح کاکوئی بھی نقصان ہو سکتا ہے

تو ایسی جگہ پر بھی غمگین ہونے کے بجائے اپنے رب سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے چاہیئے

اور اپنے ہمت اور حوصلے کو پست نہیں رکھنے چاہیئے ورنہ یہ غم دیمک کی طرح تمہیں چاٹ کر برباد کر دے گا۔

کبھی دلوں کا خوش ہوجانا
مسلسل چاہتوں کا پورا ہونا
کبھی خوابوں کا حقیقت بن جانا
ہر طرف سے خوشیوں کا آنا
خوشی ہو یا غمی لمحے ٹھہرتے نہیں سفینہ
یہ دور بھی گزرجاتے ہیں، گزرجاتے ہی
ں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here