The well of Zamzam is a miracle

0
378
The well of Zamzam is a miracle
https://www.google.com/

زمزم کا کنواں ایک معجزہ ہے

ایک حاجی جب زمزم کا پانی پیتا ہے تو اسماعیل علیہ السلام کو یاد کرتا ہے

جن کی خاطر زمزم کا پانی نکالا گیا۔

آب زمزم کے تعلق سے یہ حدیث وارد ہوئی ہے :(زمزمُ مُبارَكةٌ إنَّما طعامُ طُعمٍ وشفاءُ سُقمٍ)

ترجمہ: زمزم کا پانی مبارک ہے، کھانے کا کھانا ہے اور بیماری میں باعث شفا ہے۔

امام نووی نے کہا ہے کہ جس طرح کھانا کھانے سے آسودگی ہوتی ہے

اسی طرح زمزم پینے سے بھی آسودگی ہوتی ہے۔

اسی طرح مسند احمد میں وارد ہوا ہے کہ آب زمزم ہر اس مقصد کیلئے ہے جسکے لئے اسے پیا جائے۔ (مسند احمد: ۳/ ۳۵۷)۔

یہی وجہ ہے کہ زمزم کے کنواں کی حفاظت اور اسکی پاکیزگی اور صفائی ستھرائی کا مملکت سعودی عرب پورا پورا خیال رکھتی ہے،

ملک عبد العزیز کے عہد اور اس سے پہلے زمزم کا پانی ڈول سے نکالا جاتا تھا،

پھر اسے کھلی ٹنکی میں جمع کیا جاتا تھا، جو اسے پینا چاہتا

تو اس ٹنکی سے بندھے ہوئے برتن سے نکال کر پیتا تھا،

مگر پانی کھ تحفظ اور گرد و غبار سے بچانے کیلئے ملک عبد العزیز ہی کے زمانے میں ٹنکی کے اوپر چھتری لگا دی گئی تھی

اور اسی طرح ڈول کا سسٹم ختم کرکے موٹر لگا دیا گیا، اور ٹنکیوں کی تعداد بڑھا دی گئی۔

ملک سعود کے زمانے میں ۱۳۸۲ھ کے اندر جب مطاف کی توسیع عمل میں آئی

تو زمزم کا کنواں مطاف کے نیچے کردیا گیا اور اسکے اس پر چھت بنا دیا گیا

اور کنویں کے علاقے کو مطاف میں شامل کرلیا گیا،

اور نیچے کنویں کے پاس مردوں اور خواتین کے لئے الگ الگ حصہ کردیا گیا

جہاں جا کر پانی پی سکتے ہیں، اور کنویں کے اندر دو بھاری بھاری موٹر لگا دیئے گئے، اور یہ سب ۱۳۸۳ھ میں ہوا ہے۔

ملک خالد بن عبد العزیز کے زمانے میں کنویں کی صفائی کا حکم ہوا چنانچہ اسے ۱۳۹۹ھ میں ماہر غوطہ خوروں کی مدد سے صاف کیا گیا۔

اس صفائی کے دوران کنویں سے بہت سارے برتن، سکے اور لوہے لکڑی اور پلاسٹک وغیرہ

کے بہت سارے عجیب و غریب قسم کے سامان نکالے گئے،

بکریوں کے کھر، چاقو، پتھر کنکری اور دھات کی بنی بہت اشیاء برآمد کی گئیں

جنہیں حجاج کرام نے اس کنویں میں مرور زمانہ کے ساتھ پھینک رکھا تھا،

ان اشیاء میں جو نادر اور قابل یادگار ہیں انہیں حرمین کمیٹی کے ماتحت محفوظ کرلیا گیا ہے۔

اسی طرح کنویں کی دیواروں کی بھی صفائی کی گئی،

جس کیلئے لوہے کے برش استعمال کئے گئے

اور کنویں کی تہ میں دیواروں سے گر کر جو ٹل چھٹ جمع ہوگیا تھا ان سب کو نکالا گیا۔

زمزم کنویں کی صفائی کا یہ کام تاریخی اور بہت بڑا کارنامہ ہے

جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانی پہلے کے مقابلے کہیں زیادہ نکلنے لگا۔

اسکی پوری تفصیل کیلئے دیکھیں شیخ محمد بن عبد اللہ السبیل کی کتاب رعایۃ الحرمین الشریفین، ص ۷۱

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here