Thursday, January 20, 2022
Homeacchi batenAankhon me surma dalna aur jadeed science

Aankhon me surma dalna aur jadeed science

Aankhon me surma dalna aur jadeed science

حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدسﷺ کے پاس ایک سُرمہ دانی تھی جس میں ہر رات تین تین سلائی سرمہ دونوں آنکھوں میں ڈالا کرتے تھے ( ترمذی:1757)

سرمہ جہاں سنت نبیﷺ ہے وہاں اس کے فوائد دنیوی لحاظ سے بھی بالاتر ہیں :
سرمہ اعلی درجہ کا دافع تعفن یعنی اینٹی سپٹک ( Anti Septic ) ہے

جدید تحقیق کے مطابق جب آنکھوں میں سرمہ لگایا جاتا ہے تو سورج کی تیز شعائیں الٹراوئیلٹ ) آنکھوں کی پتلی ( Retina ) کو نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے اس کے بر عکس الٹراوئیلٹ ریز ان

آنکھوں کی پتلیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہیں جن آنکھوں میں سرمہ نہ ہو

سرمہ سے آنکھوں کے اوپر پانی لیڈ انفکشن ( Lead Infection ) اور ککرے بالکل نہیں ہوتے
آشوب چشم کے مریض کے لئے سرمہ بہت مفید ہے

حتی کہ جو آدی سرمہ مستقل استعمال کرتا ہے اسے آشوب چشم کا مرض کم ہو گا

ماہرین چشم کے مطابق آنکھوں کے ان امراض سے بچاتا ہے جن امراض کا جدید سائنس میں علاج ناممکن ہے

آنکھوں کے زخم، خراش اور سوزش کے لئے سرمہ بہت مفید ہے یہ ہر قسم کے چھوتی جراثیم( Contagious Germs ) ختم کر دیتا ہے

حفاظت و بصارت

وضو کرتے ہوئے آنکھ کھول کر چہرے پر پانی کے چھینٹے دینے چاہییں صاف رکھنےاور امراض کےلئےیہ نہایت سہل اور بہترین حفظ ما تقدم ہے۔

اس کے علاوہ حضور کریمﷺ نے بصارت کے لئے ایک نہایت مفید اور کار آمد ہدایت فرمائی ہے۔ فرمایا جب سونے لگو تو سرمہ لگایا کرو( ترمذی )

پھر فرمایا ” سرمه اثمدکا لگایا کرو کیونکہ اس سے بال پیدا ہوتے ہیں اور آنکھوں کی روشنی زیادہ ہوتی ہے ”۔

آپﷺ کا یہی معمول تھا اس لئے آخری دم تک آپ کی بینائی میں ذرا فرق نہیں آیا تھا بہت سے ایسے عمر رسیدہ لوگ دیکھنے میں آئے ہیں

جو اس ارشاد نبویﷺ پر عمل کر کے اپنی نظر قائم رکھتے ہیں اور ستر ، اسی بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر میں کڑوے تیل کے چراغ کی روشنی میں رات کو لکھتے پڑھتے یا کوئی اور باریک کام مثلا کشیدہ کاری وغیرہ کرتے ہیں

رات سرمہ لگانے کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ دن بھر کا گرد و غبار سرمہ لگانے کے ساتھ پانی کے ہمراہ گوشہ چشم سے باہر نکل آتا ہے اور صبح آنکھیں دھو دینے سے چہرے پر سرمہ کی سیاہی کا کوئی نشان نہیں رہتا

لکھنے پڑھنے اور باریک کام کرنے والوں کے لئے تو سرمه از بس ضروری ہے ۔

اس سے آنکھوں کی تھکاوٹ اور ضعف ، بشرطیکہ اس کا استعال با قاعدہ کیا جائے دور ہو جاتا ہے معمولی سرمہ خوب کھرل کیا ہوا بڑا مفید رہتا ہے

موجودہ یورپی تمدن میں سرمہ لگانے کا رواج کم ہے قدرت کی عطا کردہ قوت بینائی میں اگر کمی واقع ہو جائے تو اسے مصنوعی ذرائع یعنی چشمه بلوری کے استعمال سے پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر سہل ،کم خرچ اور مفید طریق اختیار نہیں کیا جاتا

بین الاقوامی مجلس ( یو این او ) کے ادارہ یونیسکو کے فراہم کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں اسی لاکھ نابینا ہیں اور ان میں سے اسی فیصد اشیا اور افریقہ میں پائے جاتے ہیں

حفاظت بصارت سےلاپرواہی بھی ان دونوں براعظموں میں بہت زیادہ ہوتی جاتی ہے..

https://hindi.news18.com/photogallery/knowledge/why-muslim-men-apply-sormeh-in-eyes-1753555.html

script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »