Dahej me bike magna

0
150
Dahej me bike magna
https://www.google.com/

آپ ہی کی شادی ہورہی ہے _؟

گزشتہ کل اسی بائک کو خریدنے ہم ایک شو روم گئے.

مختلف رنگ وروپ کی بائک دکھائی جانے لگی.

اسی درمیان شو روم کے ہی ایک صاحب جو گاڑیاں دکھا رہے تھے

مجھ سے کہنے لگے،آپ ہی کی شادی ہورہی ہے؟

میں اس سوال پر چونک گیا.اور سوچنے لگا کہ میں تو اس شخص کو جانتا بھی نہیں ہوں

پھر اچانک سے شادی کی بات یہ کہاں سے لے آیا.

مجھے خاموش دیکھ کر وہ کہنے لگے، میرا مطلب یہ تھا کہ گاڑی جہیز ہی کے لئے خریدی جارہی ہے نا…..

میں نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا، نہیں… میں خود اپنے روپے سے اپنے لئے خرید رہا ہوں.

کچھ دیر شو روم میں رکنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اس نے مجھ سے یہ سوال کیوں کیا تھا.

کیونکہ کہیں کہیں گاڑی پسند کرنے کے لئے ہونیوالا داماد خود شو روم جاتا ہے.

بعد میں لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ آج کل اس علاقے میں تقریباً 95 فی صد گاڑیاں جہیز میں دینے کے لئے خریدی جاتی ہیں.

کوئی بھائی مزدوری کرکے خریدتا ہے، کوئی باپ چندہ کرکے خریدتا ہے اور کوئی ماں گہنے بیچ کر خریدتی ہے.

میں نے کل اپنی آنکھوں سے دیکھا کوئی بوڑھا باپ اپنے بوسیدہ تھیلے میں پیسے لے کر آیا ہے،

کوئی غریب ماں اپنے پھٹے آنچل میں روپیہ باندھ کر لا آئی ہے.

ان کی آنکھوں سے تھکن جھانک رہی ہے، چہرے سے پریشانی عیاں ہے،

باتوں سے درد وکرب کا اظہار ہورہا ہے. اور یہ شو روم والے سے مول بھاؤ کررہے ہیں.

بھیا گاڑی لون پر مل جائے گی؟ قیمت کچھ کم نہیں ہوگی؟ اتنے زیادہ روپے نہیں ہیں.

تو یہ کم قیمت والی گاڑی لے لیجئے.

نہیں… لڑکا نہیں مانے گا. اس کی ڈیمانڈ ہے کہ فلاں گاڑی لیجئے گا.

مگر اس کی قیمت تو ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان پڑ جائے گی.

آپ سوچئے کوئی مفلس باپ، کوئی غریب ماں، کوئی مزدور بھائی جو پانچ یا دس ہزار مہینہ کماتا ہے

وہ اتنے روپے کہاں سے لائے گا؟ جن کے گھر چار پانچ بیٹیاں ہیں وہ بیچارا تو جیتے جی مرجائے گا.

میرے بھائیو! تم ہی ان غریب والدین پر ترس کھاؤ نا.

خدارا جہیز لینا چھوڑ دو نا. کیا تم نے کبھی کسی غریب باپ کے جھرّی زدہ چہرے کو بغور نہیں پڑھا ؟

کیا تم نے کسی غریب بیٹی کی بوڑھی ماں کی آنکھوں میں جھلملاتے آنسو نہیں دیکھے؟

کیا تم نے کبھی نہیں سوچا کہ بیٹیوں کے والدین تمہاری ایک خواہش پوری کرنے کے لئے اپنی کتنی خواہشوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں.

کیا کبھی تم نے ان بہنوں کے بارے میں نہیں سوچا کہ ان کے نازک دل پر کیا گزرتی ہوگی

جن کے والدین ان کی شادی کے لئے ایک ایک سکہ جوڑ کر رکھتے ہیں،

مزدوریاں کرتے ہیں، جھڑکیاں سنتے ہیں.

کیا وہ بیٹیاں رحمت کے بجائے خود کو زحمت نہیں سمجھتی ہوں گی؟

خدا کے واسطے یہ تلک اور جہیز جیسی قبیح رسم کو ختم کیجئے.

کسی غریب والدین کے خون پسینے کی کمائی سے جہیز میں قیمتی بائک لینے کے بجائے اپنی کمائی سے ایک سائیکل خرید لیجئے.

خدا کی قسم اس گاڑی سے زیادہ سکون آپ کو اپنی سائیکل پر ملے گا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here