Wednesday, December 1, 2021
HomeDeeni BatenDiwali Ki Mithai Khana Kaisa?

Diwali Ki Mithai Khana Kaisa?

Kya Diwali Ki Mubarak Baad Dena Ya Mithai Khana Sahi Hai

اگر دیوالی منانا صحیح ہے تو اس کی مبارکباد دینا بھی صحیح ہے اور اس کی مٹھائیاں کھانا بھی درست ہے ۔اور
اگر منانا ہی غلط ہے تو غلط کام پر مبارکباد دینا یا اس کی مٹھائیاں کھانا کیسے صحیح ہو سکتا ہے ؟
ایک بندہ شرک کر رہا ہے آپ کی ذمہ داری ہے کی اس کو اس کے شرک سے روکیں ۔ آپ بجائے روکنے کے الٹا مبارکباد
دے رہے ہیں اور خوشی میں مٹھائیاں کھا رہے ہیں ۔
ذرا غور کریں یہ یہود تو اہل کتاب میں سے تھے ۔ دو تین انبیاء کو چھوڑ کر وہ ان سارے انبیاء کو ماننے والے تھے جن کو مسلمان مانتے تھے ۔ دوسرے مشرکین کی بنسبت مسلمانوں سے ان کی قربت ایک درجہ زیادہ تھی ۔ پھر وہ عاشورہ کا روزہ بھی کوئی دیوی دیوتاؤں سے کی عبادت یا عقیدت کی وجہ سے نہیں رکھتے تھے ۔
ان کا روزہ ایک نبی کی فتح اور طاغوت کی شکست پر اللہ کے لیے شکرانہ تھا ۔ مسلمانوں کے لیے یہود سے ” بھائی چارگی ،، ” محبت ،، تالیف قلب ” اور ” تقارب ،، کے لئے اس سے بہتر موقع کیا ہو سکتا تھا ۔
لیکن شریعت نے یہاں اس ” نیکی ،، میں بھی یہود سے مسلمانوں کی مشابہت قبول نہیں کی ۔ قوم رسول
ہاشمی کی ترکیب خاص کی حدیں ہمیشہ کفار سے ، ان کے ” کفر ،،
سے ان کی” تہذیب ،، ” ثقافت ،، اور ان کی “عیدوں ،، اور “تہواروں ،، سے صاف صاف الگ ہونی چاہیے ۔
تو حکم دیا گیا کہ اس امر میں یہود سے مشابہت نہیں ہونی چاہیے اس لیے ایک دن پہلے بھی روزہ رکھو یہ ان کی مخالفت ہو ۔
اب آئیے دیوالی کی طرف !!!

Diwali Kya Hai 

ایک ایسی مشرک قوم کا تہوار جس کے معبودوں کی گنتی شمار سے باہر ہے ۔

Diwali Kis Ke Liye Manai Jati Hai 

لکشمی دیوی کی تعظیم اور عبادت میں جو ان کفار کے عقیدہ کے مطابق مالداری اور خوشحالی بانٹنے والی دیوی ہے ۔

Diwali Me Kya Hota Hai

لکشمی کی پوجا ، یعنی اللہ کے ساتھ کھلم کھلا کا شرک ۔ ربوبیت کا بھی الوہیت کا بھی ۔
اب شرک کے مقابلہ میں مسلمان کا رد عمل کیا ہونا چاہیے 
پہلا رد عمل تو یہ ہونا چاہئے کہ اللہ نے طاقت دی ہوتو اس شرک کو اس کی بنیادوں سے اکھاڑ کر پھینک دو ۔ لیکن وہ ہم کر نہیں سکتے کیونکہ موجودہ صورت حال میں اس کی نہ گنجائش نہ اجازت ۔
اس کے بعد ” دوسرا ،، ” مرحلہ ،، ہے  کہ زبان سے اس کا رد کرو اور حجت قائم کر دو ۔ وہ بھی نہیں کر سکتے تو کم سے کم دل میں اس عمل سے گھن کھاؤ ، برا جانوں اور تکلیف محسوس کرو  ۔
یہ ایمان کا آخری درجہ ہے ۔
اب جب اس شرک کی خوشی میں بنٹنے والی مٹھائی چٹخارے لے لے کر کھائیں گے تو یہ ایمان کا آخری درجہ بھی بچا ؟   ۔ ( مالکم کیف تحکمون )
مغلوب قوم کے تحفظات ؟ 
ایک بات یہ بھی یاد رکھیں ! مغلوب قوموں کے احکام غالب قوموں سے بہت زیادہ مختلف ہوتے ہیں ۔ اس وقت مسلمانوں کو اگر دنیا کے کسی مذہب سے خطرہ ہے تو اسی الحادی سیکولرازم سے ہے ۔
اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں ۔ مسئلہ محض
” مٹھائیوں ،، کا نہیں رہ گیا ۔ بات دیوالی منانے اور گنبتی بٹھانے تک پہنچ گئی ہے ۔
اس کھلے شرک اور کفر تک پہنچنے کے راستے اسی ” مٹھائی ،، سے کھلتے ہیں ۔ لہذا ضروری ہے کہ یہ ہے ” پہلا دروازہ ،،
ہی بند کر دیا جائے ۔
” خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ،،
تہوار کسی بھی ملت کی ثقافت و تہذیب کے نمائندہ اور اس کی اقدار اور روایات کے ترجمان اور اس قوم کا شعار ہوتے ہیں ۔ اسلام کیوں کہ ایک مستقل دین ہے لہذا اس کی اپنے دیوار ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جب اسلام نے جاہلیت کو ختم کیا تو اس کے تہواروں پر بھی خط تنسیخ کھینچ دی ۔
 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دور جاہلیت میں مدینہ کے لوگ سال میں دو تہوار منایا کرتے تھے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے فرمایا : ( وقد ابدلکم اللہ بھما خیرا منھما : یوم الفطر یوم الاضحی ) 
اللہ تعالی نے تمہیں ان دونوں تہواروں کے بدلہ میں دو اور تہوار عطا کر دیے ہیں جو ان سے بہتر ہیں اور وہ ہیں عید الفطر اور عید الاضحی – “”
( صحیح سنن نسائی؛ 1465 )
اسلام کا مزاج اس بات کو قبول ہی نہیں کرتا اس کے ماننے والے کسی دوسری قوم کے ساتھ ان کے تہواروں میں کسی بھی طور پر شریک ہوں ۔ کفار کے تہواروں میں کسی بھی طرح کی شرکت ان کی مشابہت ہے جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے ۔
ارشاد ہے : ” جس نے بھی کسی قوم سے مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے ،،
( سنن ابو داؤد کتاب اللباس حدیث نمبر (3512 )
 🌹سعودی عرب کی دائمی فتوی کمیٹی کا فتوی ہندوؤں کے تہوار کے موقع پر دکان سے خرید کر دی جانے والی مٹھائیوں کا حکم ؟
ہندوستان میں ہندوؤں بت پرستوں کے بہت سارے تیوہار ہوتے ہیں ۔ جن میں سے وہ اپنے پڑوس میں مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں جیسے ہمارے یہاں عید الفطر میں تقسیم کی جاتی ہیں ۔ اس مسئلہ میں وہاں اختلاف ہے ۔ بعض حضرات اس کو حلال بتاتے ہیں کیونکہ وہ ذبیحہ نہیں ہے ۔
اور بعض حضرات اسے حرام قرار دیتے ہیں کیوں کہ یہ غیر اللہ کے نام کا ہے ۔ یہ واضح رہے کہ یہ مٹھائیاں گھر میں نہیں بنائی جاتی بلکہ دکان سے خرید کر دی جاتی
ہیں ۔ اس مسئلہ میں شرعی حکم کیا ہے ؟
بت پرست اور دیگر کفار اپنے تہواروں میں دینی مناسبت سے جو تحفے دیتے ہیں ان کا قبول کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے ۔
کیونکہ ان تحفوں کے قبول کرنے کا مطلب ان کے باطل کو تسلیم کر لینا اور ان کے اعمال سے راضی ہو جانا ہے ۔ لہذا مسلمان کو ان سے بچنا چاہئے اور اپنے دین کے معاملے میں محتاط رہنا چاہیے ۔
( الجنۃ الدائمتہ للبحوث العلمیہ والافتاء فتویٰ نمبر :
20400 )
 
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ہمیں تمام برائیوں سے بچائے اور ہمارا خاتمہ ایمان بالخیر پر ہو  ۔
۔آمین
script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »