Dua ke masail ‎

0
193
Dua ke masail ‎
https://www.google.com/
ساری مخلوق اللہ تعالیٰ  کی محتاج اور اسی کی ضرورت مند ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے بے نیاز اور مستغنی ہے ،اللہ نے دعا کرنا واجب قرار دیا ہے ،چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے ﴿ اَدۡعُوۡنِیٓ أَسۡتَجِبۡ لَكُمۡ الّذِینَ يَسۡتَكۡبِرُونَ عَنۡ عِبَادَتِی سَیَدۡخِلُوۡنَ جَهَنَّمَ دَاخِرِینَ﴾
ترجمہ : ،،مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا ،یقین مانو کی جو لوگ میری عبادت سے خود سری کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں پہنچ جائینگے _،،(المومن: 6)
اس آیت میں عبادت سے مراد دعا ہے ،ُاللہ کے رسول ﷺکاارشاد ہے : ﴿﴿ مَنۡ لَمۡ یَسۡأَلِ اللهِ یَغۡضَبُ عَلَیۡهِ﴾﴾ ،،جو شخص اللہ تعالی سے نہیں مانگتا اللہ تعالی اس سے ناراض ہوتا ہے _،،(ترمذی)
نیز اس کے ساتھ اللہ تعالی اپنے بندوں کے سوال پر خوش ہوتا ہے اور عاجزی سے دعا کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہےاور انہیں اپنے قریب کرتا ہے _
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس چیز کو محسوس  کیا تھا ،چنانچہ وہ کسی بھی چیز کو اللہ تعالی سے مانگنے کو حقیر نہیں سمجھتے تھے
اور نہ اپنا دست سوال ہی کسی مخلوق کے سامنے پھیلاتے تھے_ ایسا صرف اس لئے تھا کہ ان کا تعلق اللہ تعالی کے ساتھ تھا ،وہ اللہ کے قریب تھے اور اللہ ان کے قریب تھا جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے :
﴿وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی عَنّیِ فَإِنّیِ قَرِیبٌ﴾ ،،جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو (آپ ان کہہ دیں کہ )میں ان کے قریب ہوں _،،(البقرہ :186)
اللہ تعالی کے لے بہت بڑی چیز ہے
1)دعائے  عبادت، جیسے نماز اور روزہ وغیرہ
2)دعا بطور سوال وطلب
دعا کی قبولیت کے اسباب : دعاکی قبولیت کے کچھ ظاہری اسباب ہیں اور کچھ باطنی اسباب_
1)ظاہری اسباب:
دعا سے پہلے نیک عمل کرنا ،جیسے صدقہ ،وضو ،استقبال قبلہ ،ہاتھ اٹھانا ،اللہ کی شان اس کی حمد و ثنا ،جس قسم کی دعا کی جا رہی ہے اس کے مناسب اسمائے حسنہ کے استعمال سے وسیلہ لینا ،
چنانچہ سے اگر جنت کی دعا کر رہا ہے ,تو اللہ تعالی کے فضل و رحمت کا واسطہ دے کر اس کے سامنے گڑگڑائے  اور اگر کسی ظالم پر بد دعا کر رہا ہے تو اس وقت رحمان یا کریم جیسے ناموں کا واسطہ نہ دیں بلکہ صرف قہار وجبار جیسے ناموں کا ذکر کرے
2)باطنی اسباب :
جیسے دعا سے پہلے سچی توبہ کھانے پینے پہننے اور رہن سہن میں پاک کمائی،حلال کمائی حرام سے پر ہیز شبہے اور شہوت کے امور سے پر ہیز ،دعا کے دوران دل لگی ،اللہ پر پورا بھروسہ قوت امید اللہ ہی سے مانگنا ،رونا عاجزی ظاہر کرنا تمام معاملے کو اللہ کے حوالے کرنا غیر اللہ سے تعلقات کو توڑنا

(وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ)

ترجمہ :جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کی میں بہت ہی قریب ہوں ،ہر پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے ،قبول کرتا ہوں اس لیے لوگوں کو بھی چاہیے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں ،یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے (البقرہ:186)
دعا کی قبولیت میں معانع امور :
بسااوقات انسان دعا کرتا ہے اور اس کی دعا قبول نہیں ہوتی یا قبولیت میں تاخیر ہوتی ہے ،اس کے بہت اسباب ہیں ،جیسے جہنم کی گرمی سے ،اس کی تنگی سے اور اس کی تاریخی سے پناہ مانگنا ،حالا نکہ جkہنم سے یا آگ سے
پناہ مانگ لینا کافی ہے۞
مسلمان کا اپنے آپ پر بد دعا کرنا یا کسی اور پر بد دعا کرنا ۞
۞گناہ یا قطعی رحمی کی دعا کرنا۞ اور جیسےیہ کہنا کے اے اللہ اگر تیری مرضی ہو تو مجھےمعاف کردے
وغیرہ۞ دعا کی قبولیت میں جلدی کرنا جیسے کہنا میں نے دعا کی اور قبو ل نہیں ہوئی _
مستحب یہ ہے کہ دعا کرنے والا اپنی دعا میں اس ترتیب کو ملحوظ رکھے :
1)اللہ تعالی کی حمد و ثنا
2)نبیٰﷺ پر درود و سلام
3)توبہ اور اپنے گناہوں کا اعتراف
4)نعمتوں پر اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرنا
5)دعا شروع کریں تو جامع دعاؤں کا انتخاب کریں
جو اللہ کے رسول ﷺاور سلف سے ثابت ہیں
6)درود پر دعا ختم کرے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here