Thursday, January 20, 2022
Homeacchi batenIslam me Happy new year manana kaisa hai

Islam me Happy new year manana kaisa hai

دسمبر کا مہینہ ختم ہونے والا ہے اور ماہ جنوری کا آغاز ہونے والا ہے ،

اس موقع پر عیسائی حضرات اور ان کی دیکھا دیکھی دوسرے غیر مسلم لوگ نئے سال کا جشن مناتے ہیں

” Happy New Year ،،

کہہ کر ایک دوسرے کو مبارک بادی دیتے ہیں ,

مگر اب اس جشن اور اس کے مختلف پروگراموں میں بہت سے مسلمان اور خاص طور سے مسلم نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شرکت کرنے لگی ہے 

حتی کی اس مناسبت سے وہ بہت سے غیر شرعی اور غیر اخلاقی اعمال و حرکات بھی کرتے ہیں ، 

مثلا : جوان لڑکوں اور لڑکیوں مردوں اور عورتوں کا مل کر رقص کرنا

شراب پی کر موج مستی کرنا سڑکوں پر غیر مناسب لباس اور ہیئت میں نکل کر سیٹیاں بجانا ،  لڑکوں اور لڑکیوں ، کا مختلط ہونا ،

ایک دوسرے کو چھیڑنا ،بوس و کنار کرنا ، پٹاخے داغنا ، گھروں اور دکانوں وغیرہ

پر زبردست لائٹنگ کرنا ہوٹلوں اور پارکوں غیرہ میں مختلف پروگرام کرنا

شراب پی کر بے تحاشہ تیزی کے ساتھ گاڑی اور موٹر سائیکل چلانا ،

جس سے کئی خطرناک حادثات اور ایکسیڈنٹ ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ ،،

آپ کو معلوم ہے کہ اسلامی شرعی عیدیں صرف دو ہیں ،

عیدالفطر اور عیدالاضحی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے

تو اہل مدینہ دو دن کھیل کود کاجشن کرتے ، جشن مناتے اور انہیں تہوار کی طرح سمجھتے تھے ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان دونوں دنوں کی حقیقت اور ان میں خوشیاں منانے کے سبب کے بارے میں دریافت کیا

تو انہوں نے بتایا کہ دور جاہلیت میں ہم ان دونوں دنوں میں کھیل کود کرتے

اور خوشیاں منایا کرتے تھے بس وہی سلسلہ آج بھی جاری ہے —

مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ختم کر کے

ان کے بدلے مسلمانوں کو دوسری دو عیدیں عیدالفطر اور عید الاضحی عطا کیں اور فرمایا : 

” اللہ نے تمہیں ان کے بدلے ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں عید الاضحی اور عید الفطر ،،

( رواہ ابوداود ) 

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور جاہلیت کے ان دونوں تہواروں کو برقرار رکھنے

اور منانے کی اجازت مسلمانوں کو نہیں دیں جن میں صرف کھیل کود ہوتے تھے

اور وہ ساری برائیاں اور خرابیاں نہیں تھی

جن کا تذکرہ  نئے سال کے جشن کے سلسلے میں ہے ،،

تو پھر اس طرح کی برائیوں بے حیائیوں اور خرابیوں سے بھرے ہوئے

جشن میں شرکت کی اجازت شرعاّ مسلمانوں کے لیے کیسے ہوسکتی ہے ؟ 

ظاہر ہے کہ قطعاّ نہیں ہو سکتی –

مشہور حدیث نبوی ہے : 

” من تشبہ بقوم فہو منہم ،،

جس نے کسی قوم کی مشابہت کی تو وہ انہی میں سے ہوگا – 

( رواہ ابوداود ( 1 )بسند حسن )

اس حدیث سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے

کہ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی شکل و صورت اور لباس

و وضع قطع ، اور تہواروں وغیرہ تمام مذہبی امور میں ان کی مشابہت سے بچنا چاہیے

ورنہ ان کا شمار بھی انہی غیر مسلم اقوام میں ہوگا

گویا وہ اس کی وجہ سے اپنے دین اور تہذیب و ثقافت سے برگشتہ اور منحرف مانے جائیں گے

اور یہ عیسائیوں کا نئے سال کی مناسبت سے ایک تلوار ہے

اس واسطے اس حدیث کی روشنی میں اس میں شرکت سے اجتناب کرنا مسلمانوں پر لازم ہے – ،،

نیا سال منانا بہت قدیم زمانے سے موجود ہے سوال یہ ہے

کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلفاء راشدین نے صحابہ کرام نے اور تابعین عظام نے یا محدثین و فقہاء اور معتبر مسلمان خلفاء نے کبھی اس جشن کو منایا ہے ،،

اور یقینا نہیں منایا ہے تو پھر آج کے مسلمانوں کے لیے اس جشن کے منانے کا جواز کیسے ہوگا ؟ 

جب کہ اس میں کئی محرمات اور منہیات کا ارتقاب کھلم کھلا ہوتا ہے

جیسے شراب نوشی مردوزن کا بے محابا اختلاط ، رقص و موسیقی ،

ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ ،، اور بسا اوقات  زناکاری و بدکاری ، اور گانے بجانے وغیرہ –

اللہ تعالی نے ہم کو ایک موقع کامل و مکمل دین و شریعت عطا فرمائی ہے ، اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے : 

 اَلۡیَوۡمَ اَکۡمَلۡتُ لَکُمۡ دِیۡنَکُمۡ وَ اَتۡمَمۡتُ عَلَیۡکُمۡ نِعۡمَتِیۡ وَ رَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسۡلَامَ دِیۡنًا ؕ 

” آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردیں

اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا – 

( سورۃ المائدة : 3 )

نیز

مسلمانوں کے لئے اس عمل سے غیر مسلموں میں یہ بھی پیغام جاتا ہے

کہ دین اسلام کامل نہیں ہے ، جس سے وہ خوش ہوتے ہیں

نیز ان کے اسی عمل کی وجہ سے غیر مسلم اسلام کی طرف آنے کی وجہ ان کو ناقص سمجھنے اور اس سے دور ہونے لگتے ہیں

تو یقینا ایک بڑے خسارے اور گناہوں سے ظلم کی بات اور مجرمانہ عمل ہے

کہ ہم اسلام کو نافذ اور دوسروں کے دین اور اس کی تعلیمات کو اس سے بہتر ثابت کریں

اور غیر مسلموں کے سامنے صحیح اسلام کو پیش کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے کے بجائے اس کو بد نام کریں ،،

بہرحال متعدد دلائل سے یہ بات ثابت ہے

کہ اس قسم کے تہواروں اور جشنوں میں شرکت کرنا مسلمانوں کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے

اور اس کے متعلق دینی دینوی ، اور اخلاقی نقصانات ہیں 

اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو صحیح دین کا علم و بصیرت عطا فرمائے ،

اور ہر قسم کے محرمات اور خرافات سے دور رکھے

خاص طور سے ہمارے نوجوانوں کو اس طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھیں

 آمین 

https://www.alamy.com/stock-photo/happy-new-year-2023.html

script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »