Friday, July 1, 2022
Home acchi baten Khudkhushi ki maut kaisi hoti hai

Khudkhushi ki maut kaisi hoti hai

خودکشی کی موت کیسی ہوتی ہے؟

نوٹ: کمزور دل لوگ یہ تحریر نہ پڑھیں۔

نوجوانی میں موت اور خاص طور پر خودکشی کا ایک اپنا چارم ہوتا ہے۔

نوجوان عاشق ایک دوسرے کے لیے مرنے کی باتیں روزانہ کرتے ہیں۔

انٹرنیٹ اور ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں خودکشی کو جس طرح دکھایا جاتا ہے

اس سے کئی نوجوان لڑکے لڑکیاں یہ انتہائی قدم اٹھانے کی حماقت کرگزرتے ہیں۔

اس کی اصل حقیقت کیا ہے، اس کے کچھ عرض کروں گا۔

میرے سامنے تین ایسے واقعات ہوئے ہیں

جب کسی نے خودکشی کی کوشش کی اور کچھ عرصہ زندہ رہنے کے بعد اس کی موت ہوگئی۔

ان چند گھنٹوں کی ان کی اذیت ناک زندگی کے لمحات جب بھی یاد آتے ہیں

تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

ان میں سے ایک واقعہ کا ذکر کروں گا جو تب کا ہے

جب میں زرعی یونیورسٹی میں بی ایس سی کا سٹوڈنٹ تھا

اور ٹیپو ہال کے کمرہ نمبر 25-D میں رہائش پذیر تھا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ پہلی ایک دو کلاسز لینے کے بعد کمرے میں آیا

کیونکہ اگلی کلاس نہیں تھی۔

ابھی کمرے میں بیٹھا تھا کہ شور مچا۔

باہر نکلا تو کسی نے بتایا کہ وہ سامنے والے کمرے کے ایک لڑکے نے زہر والی گولیاں کھا لی ہیں۔

تب تک کسی نے ایمبولینس کو کال کر دی تھی۔

اس لڑکے سے زیادہ شناسائی تو نہیں تھی

لیکن تھوڑا بہت تعلق تھا۔

کسی اور کلاس کی لڑکی پر عاشق تھا۔

صبح صبح اس کی کلاس میں جا پہنچا۔

لڑکی نے اپنی ٹیچر کو شکایت لگائی

کہ یہ لڑکا ہماری کلاس کا نہیں ہے

اور مجھے تنگ کرتا ہے ۔

ابھی بھی اسی لیے کلاس میں بیٹھا ہے۔

ٹیچر نے بے عزت کر کے اسے کلاس سے نکال دیا۔

وہ سیدھا شاپنگ سنٹر پہنچا،

زہر والی گولیاں لیں اور کھا لیں۔

ناشتہ نہیں کیا ہوا تھا اس لیے معدے نے بھی اسے باہر نہ نکالا۔

جلدی سے اسے الائیڈ ہاسپتال لے کر گئے

جہاں اس کا معدہ واش کیا گیا لیکن تب تک دیر ہو چکی تھی۔

کئی گھنٹے وہ زندہ رہا۔ ہر کسی سے وہ ایک ہی بات کہتا تھا

کہ کسی طرح مجھے بچا لیں۔

میرے اندر جیسے چریاں چل رہی ہیں۔

کوئی اندر سے مجھے کاٹ رہا ہے۔

انتہائی کرب میں تھا وہ۔ اتنی بری حالت تھی

کہ کوئی بھی اس کے پاس نہیں رک پا رہا تھا۔

اس کا تڑپنا رونا اور زندگی کے لیے بھیک مانگنا

آج تک نہیں بھولا۔

وہی زندگی جس کا خاتمہ خود اس نے اپنے ہاتھوں سے کیا تھا۔

بہت خوبصورت جوان تھا۔

بہت ہی اچھے، پڑھے لکھے

اور امیرگھرانے سے تھا۔

بس ایک بے وقوفی اور جذباتی فیصلے سے اپنے آپ کو انتہائی بھیانک موت کے منہ میں دھکیل دیا۔

سب نے اس کی زندگی کے لیے دعا کی۔

ڈاکٹرز نے پوری کوشش کی۔

اس کی ماں کی حالت میں الفاظ میں بیان ہی نہیں کر سکتا۔

بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر

ایسے جیسے اس پر کوئی آرا چلا رہا ہو۔

اس کا چیخنا چلانا پورے وارڈ میں سنائی دے رہا تھا۔

بیٹا اپنی کھائی گولیوں کے کرب سے تڑپ رہا تھا

اور ماں اپنے بیٹے کی حالت دیکھ کر پل پل مر رہی تھی۔

اور بیچاری ساری زندگی مرتی رہی ہوگی ۔

کئی گھنٹوں کے کرب اور تکلیف کے بعد وہ لڑکا اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔

بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی یہ واقعہ یاد تو ہوگا

مگر شاید اس کرب کا نہ پتہ جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

اس لڑکے اور اس کے والدین کی حالت کوئی ایک لمحے کے لیے بھی دیکھ لیتا

تو کبھی خودکشی کا نام بھی نہ لے۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور اس حرام موت سے بچائے

جس کے بعد انسان دنیا اور آخرت دونوں کو خراب کر بیٹھتا ہے۔

https://zeenews.india.com/hindi/tags/%E0%A4%96%E0%A5%81%E0%A4%A6%E0%A4%95%E0%A5%81%E0%A4%B6%E0%A5%80.html

RELATED ARTICLES

How do Islamic countries treat their minorities?

https://www.youtube.com/watch?v=YIk9gKZ-ilg اسلامی ممالک اپنی اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ کم...

Gairat mand shoher kon ?

غیرت مند شوہر!! حضرت سیِّدُنا قاضی ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی...

Turkey me students ne quran ko laat mara football ki tarah

ترکی میں طلبہ نے قرآن کو فٹ بال کی طرح لات ماری، ویڈیو وائرل ہوگئی رباط: ترکی...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

How do Islamic countries treat their minorities?

https://www.youtube.com/watch?v=YIk9gKZ-ilg اسلامی ممالک اپنی اقلیتوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں؟ کم...

Gairat mand shoher kon ?

غیرت مند شوہر!! حضرت سیِّدُنا قاضی ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن موسیٰ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی...

Turkey me students ne quran ko laat mara football ki tarah

ترکی میں طلبہ نے قرآن کو فٹ بال کی طرح لات ماری، ویڈیو وائرل ہوگئی رباط: ترکی...

Izzat Ki Roti Aur Pakiza khana

عزت کی روٹی اور پاکیزہ غذا الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده، وبعد!

Recent Comments

Translate »