Thursday, January 20, 2022
Homeacchi batenKisi ka ek meter ya ek balisht zameen ka kabza kerna

Kisi ka ek meter ya ek balisht zameen ka kabza kerna

Kisi ka ek meter ya ek balisht zameen ka kabza kerna

بشارت ہے ان لوگوں کے لئے
جو ایک میٹر یا ایک ہاتھ یا ایک بالشت یا ایک دو انچ زمین بغیر حق کے لے لیتے ہیں ۔

کبھی گھر بناتے وقت راستے کی طرف تھوڑا سا بڑھ کر دیوار اٹھاتے ہیں ۔

یا گھر اور دیوار تو اپنی ہی زمین میں مگر زینہ راستے اور سڑک پر بناتے ہیں ۔

جس سے راستہ تنگ ہوتا ہے اور گزرنے والوں کو پریشانی ہوتی ہے ۔

کبھی گلی یا دوسرے کی زمین میں ایک دو بالشت بڑھ لیتے ہیں ۔

کبھی کھیتی باڑی میں ایک ہاتھ بڑھ کر جتائی کر لیتے ہیں ۔

ایسے لوگ رات کی تنہائی میں کم از کم تین تین مرتبہ درج ذیل حدیثوں کو پڑھیں : –

1️⃣ – ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ “. ( صحيح البخاري | كِتَابٌ : بَدْءُ الْخَلْقِ | بَابُ مَا جَاءَ فِي سَبْعِ أَرَضِينَ : 3196).

” جس نے زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی ناحق لے لیا تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا ” ۔

نوٹ : اگر کوئی شخص ایک انچ زمین بھی ناحق اپنے قبضے میں لے لیتا ہے چاہے وہ کسی آدمی کا ہو یا گلی اور راستے کا ہو ؛ سب ” شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ” میں داخل ہے ۔

2️⃣ – سعيد بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ “. ( صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْمُسَاقَاةُ | بَابٌ : تَحْرِيمُ الظُّلْمِ وَغَصْبِ الْأَرْضِ وَغَيْرِهَا : 1610).

” جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے کسی کی دبالی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا ” ۔

نوٹ : کھلے ہاتھ کے انگوٹھے کے سرے سے لیکر چھوٹی انگلی کے سرے تک کے حصے کو ایک بالشت کہا جاتا ہے ۔
جسے ہم اپنی زبان میں ” ایک بتہ ” کہتے ہیں ۔

3️⃣ – ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ “، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ : ” وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ “. ( صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْإِيمَانُ | بَابٌ : وَعِيدُ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ : 137).

” جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا مال ناجائز حاصل کرلے ، اللہ تعالی اس پر آگ واجب اور جنت حرام کردیتا ہے ” ۔

ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اگرچہ معمولی چیز ہو ۔ آپ نے فرمایا : ” گرچہ پیلو کی ٹہنی ہی ہو ” ۔

نوٹ : پیلو کے ایک ٹہنی کی قیمت دس روپئے کی بھی نہیں ہوگی ۔

پھر بھی اگر کسی نے دس روپئے کی چیز چاہے وہ زمین کی شکل میں ہو یا کسی اور صورت میں ۔
اگر چھوٹی قسم کھا کر لے لیا تو جان لے کہ اللہ نے اس پر جنت کو حرام اور جہنم کو واجب کر دیا ہے ۔

رہی بات ان لوگوں کی جو طاقت ، پیسے ، کورٹ، کچہری اور تھانہ وپولیس کی مدد پوری پوری زمین ہی ہڑپ جاتے ہیں اور اپنے نام کرا لیتے ہیں ۔

انہیں مذکورہ حدیثوں کو تین سے زائد مرتبہ پڑھنا چاہیے ۔

ایک بات یاد رہے کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کسی کی باتوں میں آکر دوسرے کی زمین وغیرہ کا فیصلہ اس کے حق میں کر دیں تب بھی اس کا نہیں ہوگا ۔ بلکہ وہ جہنم کی ایک ٹکڑا ہوگا ۔

لہذا جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کر دینے سے دوسری کی چیز آپ کی نہیں ہو سکتی تو پھر کورٹ کچہری کے فیصلے سے کیسے ہو جائے گی؟؟!!

یقین نہ ہو تو پڑھ لیں یہ حدیث !!!!

ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، وَأَقْضِيَ لَهُ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذْ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ “. ( صحيح البخاري | كِتَابُ الْحِيَلِ | بَابٌ : 6967).

” میں تمہارا ہی جیسا انسان ہوں اور بعض اوقات جب تم باہمی جھگڑا لاتے ہو تو ممکن ہے کہ تم میں سے بعض اپنے فریق مخالف کے مقابلہ میں اپنا مقدمہ پیش کرنے میں زیادہ چالاکی سے بولنے والا ہو اور اس طرح میں اس کے مطابق فیصلہ کردوں جو میں تم سے سنتا ہوں۔

پس جس شخص کے لیے بھی اس کے بھائی کے حق میں سے کسی چیز کا فیصلہ کردوں تو وہ اسے نہ لے۔ کیوں کہ اس طرح میں اسے جہنم کا ایک ٹکڑا دیتا ہوں “.

https://www.aajtak.in/india/story/supreme-court-judgement-property-possession-without-case-specific-relief-act-1963-poona-ram-versus-moti-ram-legal-news-atl-666765-2019-07-06

script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »