Wednesday, December 1, 2021

Kya Nafarmaan Aurat ko Maarna Jayaz hai

🌹﷽🌹

🌹کیا نافرمان عورت کو مارنا جائز ہے ؟ 

ایک حدیث میں روایت ہے ، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
  ٫٫ لَا یُسۡأَلُ الرَّجُلُ فِیۡمَا ضَرَبَ اِمۡرَأَتَهُ عَلَیۡهِ ٬٬
” حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی خاوند اپنی بیوی کو اس کے خطا و قصور پر مارے تو اس کی باز پرس نہ ہوگی نہ دنیا اور نہ آخرت میں ،، 
( ابو داود ، ابن ماجہ )
عورتوں کی اصلاح کے لئے مارنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ،، اللّٰہ تعالی کا فرمان ہے : ﴿ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ﴾
( سورۃ النساء : 34 )
اور جن عورتوں کے نشوز کا تم کو ڈر ہو تو ان کو سمجھاؤ اور خواب گاہ میں ان سے الگ ہو جاؤ اور ان کو مارو ، اگر تمہارا وہ کہنا مان لے تو ان پر راہ مت تلاش کرو – 
🌹نشوز کا مطلب ؟ 
نشوز کے لغوی معنی اٹھ جانے کے ہیں ، نشوز کا مطلب یہ ہے کہ گھر کے باہر آتی جاتی ہے اور اِدھر اُدھر تانک جھانک کرتی ہیں تو پہلے ان کو سمجھاؤ اگر سمجھانے سے باز نہیں آتی ہیں تو مارو لیکن بلاوجہ ستانا مارنا حرام ہے – 
ایک دوسری حدیث میں روایت ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : حضرت ایاض بن عبداللّٰہ نے کہا کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اللّٰہ کی باندیوں کو یعنی اپنی بیویوں کو مت مارا 
کرو – اس فرمان کے چند دنوں کے بعد حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللّٰہ ! عورتیں اپنے خاوندوں پر دلیر و غالب ہوگئی ہیں ،، ( کیوں کہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے سے منع فرما دیا ہے اب وہ مردوں سے نہیں ڈرتی ہے یہ سن کر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے کی رخصت دے دی -، یہ حکم پاکر مردوں نے عورتوں کو بہت مارا ،، اس کے بعد بہت سی عورتیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ازواج مطہرات کے پاس حاضر ہوئیں اور اپنے خاوندوں کے مارنے کی شکایت کی یہ سن کر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کی بہت سی عورتیں میری بیویوں کے پاس اپنے خاوندوں کے بارے میں شکایت کرنے آئی ہیں تو بلا خطا و قصور مارنے والے لوگ اچھے نہیں ہیں ،،،
( ابو داود ، ابن ماجہ ، دارمی مشکاۃ المصابیح جلد دوم حدیث : 3261 )
🌹کامل مسلمان اور کامل مومن کون ؟ 
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
  ٫٫ اِنَّ مِنۡ اَکۡمَلِ الۡمُوۡمِنِیۡنَ اِیۡمَانًا اَحۡسَنَہُمۡ خُلۡقًا وَاَلۡطَفَھُمۡ بِاَھۡلِهِ ٬٬ ( ترمذی )
” حضرت عائشہ رضی اللّٰہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ وہ مسلمان کامل مسلمان ہے کہ جس کے اخلاق اچھے ہوں اور جو اپنے بال بچوں کے ساتھ بہت مہربان ہو ،،
ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا :  ٫٫ اَکۡمَلُ الۡمُوۡمِنِیۡنَ اِیۡمَانًا اَحۡسَتۡھُمۡ خُلۡقًا وَخِیَارُکُمۡ خِیَارُکُمۡ لِنِسَاءِھِمۡ ٬٬
” حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے زیادہ کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھائی اور نرمی کے ساتھ پیش آئے ،،
( ترمذی ، ابو داود )
🌹پھوٹ ڈالنا : 
 ” حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ہم میں سے نہیں ہے جو میاں بیوی اور آقا اور غلام کے درمیان میں پھوٹ ڈالے ،،  
( ابو داود )
یعنی جو شخص کسی عورت کی چغلی اور غیبت اس کے خاوند کے سامنے بیان کرے اور اس کے خاوند کی برائی بیوی سے بیان کرے تاکہ ان دونوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوجائے اور ایک دوسرے سے بدگمانی ہو جائے اس طرح سے آقا اور غلام کے درمیان میں چغلی کرکے بدگمانی پیدا کرے ایسے لوگ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے طریقے پر نہیں ہیں -، 
🌹عورت کے ساتھ نرمی کریں : 
عورتوں کے ساتھ نرمی کرنا اور اچھائی کے ساتھ پیش آنا نہایت ضروری ہے ، جیسا کہ اللّٰہ رب العالمین کا فرمان ہے : ﴿ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّـهُ فِيهِ خَيْرًا ﴾
(سورة النساء : 19 )
” عورتوں کے ساتھ نہایت خوش اسلوبی سے زندگی بسر کرو ، اگر وہ تمہیں پسند نہیں ہے تو ممکن ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نہ آئے اور خدا نے اس میں بڑی خوبی رکھی ہے – ،،
ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے : 
 ” عورت پسلی کی ہڈی کی طرح ہے ، اگر تم اسے بالکل سیدھا کرنا چاہو گے تو تم اسے توڑ دو گے ،،
( یعنی جدائی کی نوبت آ پہنچے گی ) اور اگر تم عورت سے فائدہ اٹھانا چاہو تو تمہیں اس کا ٹیڑھا پن  برداشت کرتے ہوئے اس کی ( خوبیوں ) سے فائدہ اٹھانا ہوگا 
( صحیح بخاری حدیث : 5184 )
🌹عورت کا اپنے خاوند کے ساتھ خیانت کرنا : 
حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت نہ سڑتا اور اگر حوا نہ خیانت کرتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند کی کبھی خیانت نہ کرتی -، 
( بخاری مسلم ) 
یعنی حوا علیہ السلام نے حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ یہ خیانت کیا کہ انہوں نے درخت کے کھانے پر مجبور کیا جس سے منع کیا گیا تھا اگر وہ درخت نہ کھلاتی اور تو کوئی عورت اپنے خاوند کی نافرمانی نہ کرتی ،،
🌹کیا عورت کو خاوند کے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ؟ 
ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے : 
٫٫ لَوۡ کُنۡتُ اٰمُرُ اَحَدًا اَنۡ یَّسۡجُدَ لِاَحَدٍ لَاَمَرۡتُ الۡمَرۡأَةَ اَنۡ یَّسۡجُدَ لِاَحَدٍ لَاَمَرۡتُ اَلۡمَرۡأَةَ اَنۡ تَسۡجُدَ لِزَوۡجِھَا ٬٬
” حضرت ابوہریرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورتوں کو حکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے -،   ۔  ۔  ۔ ( ترمذی )
یعنی خاوند کا اتنا بڑا حق ہے کہ اگر غیر اللّٰہ کو سجدہ کرنا جائز ہوتا تو عورتوں کو حکم دیا جاتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کریں ،، لیکن خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں ہے ،،
🌹دنیا و آخرت کی بھلائی : 
حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار ایسی چیزیں ہیں جس کو مل گئی تو اس کو دنیا و آخرت کی بھلائی مل گئی 1)  شکرگزار دل 
2 ) ذکر الہی کرنے والی زبان 3 ) وہ جسم جو بلاؤں پر صبر کرے 4 ) نیک بیوی جو اپنی ذات اور شوہر کے مال میں خیانت نہ کریں ،،،
( بیہقی مشکاۃ المصابیح باب عشرۃ النساء و مالکل واحدۃ من الحقوق جلد دوم ح : 3273 )
آخر میں اللّٰہ رب العالمین سے دعا ہے کہ ہمیں ان نصیحتوں كو زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی توفیق دے 🌹 آمین 🌹
script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »