Friday, May 20, 2022
Home Deeni Baten Lockdown Me Eid Ki Namaz

Lockdown Me Eid Ki Namaz

🌹لاک ڈاؤن میں نماز عید🌹

سوال: کرونا وائرس کے وباء کی بنا پر مسجدوں میں پنجوقتہ نمازیں اور جمعہ کی نماز باجماعت ممنوع ہے، اور لوگ یہ نمازیں اپنے اپنے گھروں میں پڑھ رہے ہیں، بظاہر ایسا لگتا ہے کہ عیدگاہوں اور مساجد میں نماز عید کے ادا کرنے کی بھی اجازت نہیں ملے گی، ایسی صورت میں کیا:
1- دیگر نمازوں کی طرح نماز عید بھی گھروں میں پڑھیں گے؟
2- اگر گھروں میں نماز عید پڑھیں گے تو کیا دو رکعت ہی پڑھیں گے یاچار رکعات پڑھیں گے؟
3- گھروں میں یہ نماز تکبیرات زوائد کے ساتھ پڑھیں گے یا بغیر تکبیرات زوائد کے؟
4- پہلی رکعت میں کتنی تکبیرات زوائد کہیں گے ؟اور دوسری رکعت میں کتنی تکبیرات زوائد کہیں گے؟
5- نماز عید کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
6- گھروں میں نماز عید کے بعد خطبہ بھی ہے یا خطبہ نہیں ہے؟
دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں، جزاکم اللہ خیرا۔
جواب:
1- کرانا وائرس کی وجہ سے جہاں عیدگاہ یا مساجد میں نماز عید ادا کرنے کی اجازت نہ ملے وہاں لوگوں کو اپنے گھروں میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ اور اگر کوئی نہ ہو تو اکیلے نماز عید ادا کرنا چاہئے، اس لئے کہ نماز عیدایک اسلامی شعاراور تمام مسلمانوں کے لئے تہوار ہے، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدٌ وَهَذَا عِيدُنَا لِأَهْلِ الإِسْلاَمِ“(صحیح البخاری مع الفتح: 2/ 474) ہر قوم کے لئے عید ہے اور یہ ہم اہل اسلام کی عید ہے۔ اورصحیح البخاری مع الفتح: (2/ 473)میں ہے: ”وَأَمَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ مَوْلاَهُمْ ابْنَ أَبِي عُتْبَةَ بِالزَّاوِيَةِ فَجَمَعَ أَهْلَهُ وَبَنِيهِ، وَصَلَّى كَصَلاَةِ أَهْلِ المِصْرِ وَتَكْبِيرِهِمْ “یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام ابن ابی عتبہ کو مقام زاویہ میں ان کے اہل و عیال کو جمع کرنے کا حکم دیا چنانچہ انہوں نے ان کو جمع کیا اور پھر ان سب کو شہر کے امام کی طرح نماز عید پڑھائی اور تکبیرات کہیں۔
اور ایک روایت میں ہے: ”كَانَ أَنَسٌ إِذَا فَاتَتْهُ صَلاَةُ الْعِيدِ مَعَ الإِمَامِ جَمَعَ أَهْلَهُ فَصَلَّى بِهِمْ مِثْلَ صَلاَةِ الإِمَامِ فِي الْعِيدِ “(السنن للبیہقی، بحوالہ فتح الباری: 2/ 475) یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی جب امام کے ساتھ نماز عید فوت ہوجاتی تو وہ اپنے گھر کے لوگوں کو جمع کر کےنماز عید کے امام کی طرح نماز ادا کرتے۔
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر نماز عید امام کے ساتھ عید گاہ یا مسجد میں کسی بنا پر ادا کرنے کا موقع نہ ملے تو اپنے گھروں میں اہل خانہ کے ساتھ عید کی نماز ادا کریں گے۔
2- گھروں میں نماز عید ادا کریں گے تو بھی دو رکعت ہی پڑھیں گے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اثر میں ہے کہ وہ شہر کے امام کی طرح نماز عید پڑھتے اور تکبیرات (زوائد)کہتے تھے۔
اور امام شہر میں دو رکعت ہی نماز عید پڑھاتا ہے، اور حضرت عبد اللہ بن مسعود اور بعض دیگر صحابہ کرام سے جو چار رکعات پڑھنا مروی ہے تو غالباانہوں نے جمعہ پر قیاس کیا ہے کہ جس طرح نماز جمعہ فوت ہوجائے تواس کی دو رکعات کے بدلے ظہر کی چار رکعات پڑھتے ہیں، اسی طرح عید کی دو رکعتوں کے بدلے چار رکعات پڑھیں گے، مگر یہ قیاس درست نہیں ہے، کیونکہ جمعہ در اصل ظہر کا بدل ہے، اور جب بدل نہ ہو تو اصل کی طرف لوٹ آئیں گے، جبکہ نماز عید ظہر وغیرہ کسی رباعی نماز کا بدل نہیں ہے، اس واسطے قضاء مثل ادا ہوگی۔
3- گھروں میں نماز عید تکبیرات زوائد کے ساتھ پڑھیں گے، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اثر”كَصَلاَةِ أَهْلِ المِصْرِ وَتَكْبِيرِهِمْ “کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے۔
4- پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ ساتھ تکبیرات زوائد ہوں گی اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات زوائد ہوں گی۔
5- نماز عید کا طریقہ یہ ہے کہ نیت کے بعد پہلے تکبیر تحریمہ کہیں گے، پھر دعا ثناء پڑھیں گے، پھر سات تکبیرات زوائد کہیں گے، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی ایک سورت پڑھیں گے، پھر رکوع و سجود کریں گے، پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوں گے،کھڑے ہونے کے بعد پانچ تکبیرات زوائد کہیں گے، پھر سورہ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں گے، اس کے بعد رکوع و سجود اور التحیات و درود وغیرہ کے بعد سلام پھر دیں گے۔
6- حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اثر میں خطبہ عید کا تذکرہ نہیں ہے، اس واسطے اکثر و بیشتر علماء کرام جیسے سعودی عرب کے مفتی عام فضیلۃ الشیخ عبد العزیز آل شیخ، اعضاء اللجنہ الدائمہ للافتاء، جامعہ ازہر کے مفتیان کرام کا فتوی ہے کہ گھروں میں نماز عید پڑھنے کی صورت میں خطبہ نہیں ہے۔
مگر کچھ علماء کرام نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اثر میں وارد ”كَصَلاَةِ أَهْلِ المِصْرِ وَتَكْبِيرِهِمْ“ سے نماز عید مع خطبہ سمجھا ہے، نیز ان کا کہنا ہے کہ قضاء علی صورۃُ الاداٰءہوتی ہے، اس واسطے اس میں خطبہ بھی ہوگا۔
یہ مسئلہ در اصل اجتہادی ہے، اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اثر میں دونوں احتمال ہے، مگر اس کے عدم ذکر سے لگتا ہے کہ اکثر علماء کے قول کو اختیار کرنا افضل ہے، لیکن چونکہ کسی کاعدم ذکر اس کے عدم وجود پر قطعی دلالت نہیں کرتا اس واسطے اگر کوئی دوسرے قول کو اختیار کرےتو اس سے جھگڑا کرنا درست نہیں۔
معلوم رہے کہ اکیلے نماز عید پڑھنے والے کے لئے بالاتفاق خطبہ نہیں ہے، کیونکہ بغیر سامع کے خطبہ دینا بے معنی ہے۔

. . . . . . . . . . . واللہ اعلم بالصواب۔

RELATED ARTICLES

Shaitan ka pehla mission kya hai

حوا کی بیٹی تیرے سر کا آنچل کس نے سرکا دیا؟شیطان کا اول مشن ہی یہی ہے

Zindagi ka tajurba kaise karen

ایک 50 سالہ شریف آدمی ڈپریشن کا شکار تھا اور اس کی بیوی نے ایک ماہر نفسیات...

Ek gareeb ki ladki

غریب کی لڑکی ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Shaitan ka pehla mission kya hai

حوا کی بیٹی تیرے سر کا آنچل کس نے سرکا دیا؟شیطان کا اول مشن ہی یہی ہے

Zindagi ka tajurba kaise karen

ایک 50 سالہ شریف آدمی ڈپریشن کا شکار تھا اور اس کی بیوی نے ایک ماہر نفسیات...

Ek gareeb ki ladki

غریب کی لڑکی ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ...

lailatul qadr kab aati hai

لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی...

Recent Comments

Translate »