Thursday, January 20, 2022
Homeacchi batenMobile Games Ek Bada Fitna | Mobile ka istemaal kesa ho?

Mobile Games Ek Bada Fitna | Mobile ka istemaal kesa ho?

آج کل‌گیمز کی بیماری اکثر نو جوانوں اور چھوٹے بچوں میں دیکھنے کو مل سکتی ہے

کیونکہ آجکل کے بچّوں کو پیدا ہوتے ہی دودھ کی بوتل نہیں بلکہ موبائل تھما دیا جاتا ہے۔

چھوٹے بچوں کی اس میں اکثریت اور اسکے نقصانات

آجکل کے چھوٹے بچوں کو دین کی درسی کتابوں کا وہ شوق و جذبہ نہیں رہا

جو اس برائی (یعنی موبائل) کے آنے سے پہلے تھا

کیونکہ اب وہ مقام موبائل نے لیے لیا ہے جو مقام پہلے اسلام کی درسی کتابوں کا تھا

اب بچے اُن اوقات میں موبائل فون چلاتے ہیں

جن اوقات میں پہلے وہ اسلامی درسی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے

Kahan Gaye Islami Heros

آج کل کے بچّے دین و اسلام کی باتیں نہیں کرتے، اسلام کے ہیروز کی باتیں نہیں ہوتیں،

حضرتِ ابو بکر، حضرتِ عمر، حضرتِ عثمان، حضرتِ علی،

حضرت خالد بن ولید، صلاح الدین جیسے اسلامی ہیروز کی باتیں نہیں ہوتیں

بلکہ بالیوڈ کے ہیروز مثلاً سلمان، شارخ، عامر کی باتیں کرتے آپکو گلی کوچوں میں دکھ سکتے ہیں،

مجھے لوگوں کا تو پتہ نہیں پر جہاں تک مجھے لگتا

صرف موبائل فون ہی سب سے بڑا فتنہ نہیں ہے

بلکہ کچھ ایسی چھوٹی چھوٹی برائیاں ہیں جنہیں آج ہمارے معاشرے میں نظرانداز کیا جاتا

اور پھر یہی چھوٹی چھوٹی برائیاں جنہیں نظرانداز کردیا جاتا ہے

آگے چل کر یہی برائیاں ایک بڑے فتنے کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔

اور جہاں تک بات ہے

موبائل کی اسے آپ اپنے معاشرے کے سب سے اچھے اور سب سے برے آدمی کے ہاتھ میں دیکھ سکتے ہیں،

کہنے کا مطلب یہ ہے کی موبائل بری چیز نہیں ہے

بلکہ یہ تو اسکے چلانے والے پر انحصار ( DEPEND ) کرتا ھے

کی وہ اسکا استعمال اچھی چیز کے لیے کرتا ہے یا بری چیز کے لیے۔

Mobile Ka Istimal Acchi Cheez Ke Liye Kaise Karen

(۱). کسی بھی ایسی حدیث یا کسی بھی کتاب کی ضروری چیزوں کو بس کچھ سیکنڈوں میں تلاش کرنا

جسکو آپکو اپنی حدیثِ مبارکہ یا اپنی دیگر درسی کتابوں میں تلاش کرنے میں آپکو بہت وقت لگ جاتا ہے۔

اسکا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کی ہم اسلامی کتابوں کو چھوڑ کر

صرف موبائل ہی میں احادیث اور دیگر اسلامی باتوں کو ڈھونڈھیں

(۲). یوٹیوب پر آپکے کئی پریشانیوں کا حل مل جاتا ہے جیسے اگر آپکو قرآن سہی سے پڑھنا نہیں

آتا تو آپ ایک یا ڈیڑھ مہینے میں “فري کورس” کرکے اچھے سے قرآن کو پڑھنا سیکھ سکتے ہیں،

اگر آپ‌ اپنی درسی کتابوں کی کچھ چیزیں نہیں جانتے ہیں

تو اسے “یوٹیوب پر سرچ کرکے” اُن چیزوں کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

(۳). یوٹیوب پر آپکو نا صرف پڑھائی سے جڑی ہوئی ویڈیوز بلکہ اس “لوک ڈاؤن” میں آپکو کھانا بنانے،

گھر کی اچھے سے صاف صفائی کرنے،

ایک ہی سبزی کو الگ الگ طریقے سے بنانے کے بارے میں اور ایسے ھی

دیگر تمام چیزوں کے بارے میں آپ گہرائی سے یوٹیوب پر سمجھ سکتے ہیں وغیرہ۔۔۔۔

اگر آپ موبائل گیمز کھیلتے ہیں یا کسی کو کھیلتے ہوئے دیکھا ہوگا تو آپ جانتے ہونگے

کہ وہ لوگ (۱ سے ۲) گنٹے ایک ہی طرح سے بیٹھے رہتے ہیں

جس کی وجہ سے چھوٹے بچّوں کو کمر میں درد، ریڑھ کی ہڈی میں درد اور نا جانے کتنی پریشانیوں کا سامنا گیمز کھیلتے ہوئے کرنا پڑتا ہے۔

مگر آج کے بچے ان سب تکلیفوں کو بھلا کر گیم کھیلنے میں مشغول رہتے ہیں۔

بچوں کی تعلیم و تربیت میں والدین کی لاپرواہی

یہ کمی کثرت سے آج کل کے والدین میں دیکھی جا سکتی ہے

وہ اس طرح کی والدین تو اپنے بچوں کو موبائل دے دیتے ہیں

مگر اُنکو اس چیز سے کوئی مطلب نہیں ہوتا کہ اُنکے بچے اسکا استعمال کیسے کرتے ہیں

جیسے اگر چھوٹے بچوں کو موبائل دے دیا جائے تو وہ تب تک کچھ نہیں دیکھ سکتے

جبتک کی اسکا لاک ( lock) نا کھول دیا جائے اور میرے حساب سے آج کل کوئی ایسا شخص نہیں ہے

جو اپنے موبائل میں لاک نا لگائے گرچے اُسکی وجہ کچھ بھی ھو۔

آجکل اگر چھوٹے بچّے کسی بات پر رونے لگے تو اُنھیں بہلایا پھسلایا نہیں جاتا

اور ناہی دیگر کوئی ایسے کام کیے جاتے ہیں

کی جِس سے بچّے رونا بند کردیں بلکہ اُنکو فوراً موبائل دے دیا جاتا ہے

اب وہ اس میں جو چاہیںں اس میں دیکھیں یا کچھ بھی کریں۔

Chote Bacchon Ka Game Me paisa Lagana

یہ چیز آپ ظاهراً تو نهى ديكه‍ سكتے لیکن یہ ‌چیز‌ بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہے

گیم میں پیسے لگانے‌ کی عادت گیم میں داخل ہوتے ہی لگ جاتی ھے

مگر اس چیز پر دھیان نہ دینے کی وجہ سے آگے چل کر ‌یے

بہت بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسمیں ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی گیم میں داخل ہوتا ہے

سب سے پہلے اُسے ساری چیزیں مفت میں دیکر اُن چیزوں کی لت لگائی جاتی ہے

بعد میں اُن سبھی چیزوں کو پیسوں سے خریدنا پڑتا ہے

سب سے پہلے کم پیسوں سے شروعات کی جاتی ھے

اور بعد میں اس کی تعداد بڑھا کر زیادہ کر دی جاتی جسے شاید ہم برداشت بھی نہیں کر سکتے

لیکن گیم کی لت ھمیں کسی بھی طرح پیسے اکٹھا کرنے

پر مجبور کر دیتی ھے پھر چاہے اسکے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔

اخیر میں اللّہ ربُّ العزت سے دعا

گو ہوں کی ہمیں موبائل اور اس سے جڑی ہویٔ تمام برایٔوں سے محفوظ رکھے ھمیں دنیا میں عزّت اور آخرت میں جنّت الفردوس سے نوازے۔

آمین یا ربُّ الآمین

https://www.youtube.com/watch?v=gpbxJCcvcgg

script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »