Friday, May 20, 2022
Home Deeni Baten Roze ke liye Niyat

Roze ke liye Niyat

روزے کے لئے نیت کب اورکس طرح؟

سوال:(28- 817) روزوں کے لئے نیت کا کیاحکم ہے؟ کیا زبان سے نیت کرنا اور ”نَوَيْت أَنْ أَصُومَ غَدًا لِلَّهِ تَعَالَى مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ“ کہنا ضروری ہے؟
جواب: روزوں کے لئے نیت ضروری ہے، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:
”إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى“(صحيح البخاري:1/ 9[1]کتاب بدء الوحي،باب کيف کان بدء الوحي الی رسول الله ﷺ)
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی اس نےنیت کی ہے۔
اور فرض روزوں کے لئے رات میں طلوع فجر سے قبل ہی نیت ضروری ہے، حدیث نبوی ہے:
”مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ“(مسند احمد: 6/ 287، سنن ابي داود:2/ 823 [2454] کتاب الصوم، باب النية في الصيام، سنن الترمذي:3/ 108 [730] كتاب الصوم،باب ما جاء لا صيام لمن لم يعزم من الليل،سنن النسائي:4/ 196 [2333] کتاب الصوم، باب النية في الصيام، سنن ابن ماجه:1/ 542 [1700]كتاب الصيام، باب ما جاء في فرض الصوم من الليل، وقال الألباني: صحيح، انظر ارواء الغليل:4/ 26 [914]، وصححه ابن خزيمة وابن حبان)
جس نے فجر سے پہلے ہی روزے کی نیت نہیں کرلی اس کا روزہ نہیں.
البتہ نفلی روزے کی نیت اگر کوئی دن میں زوال سے پہلے کر لے اور اس سے پہلے کچھ نہ کھایا پیا ہو، نہ روزہ توڑنے والا کوئی عمل ہی کیاہو تو روزہ صحیح ہوجائے گا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا: کہ تمہارے پاس کچھ کھانے کےلئےہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: تب میں روزے سے ہوں۔(صحيح مسلم: 2/ 808 [1154] کتاب الصيام، باب فضل الصيام في سبيل الله لمن يطيقه بلا ضرر،سنن ابي داود: 2/ 824 [2455] کتاب الصوم، باب في الرخصة في ذلك)
ظاہر ہے کہ اس وقت آپ نے نفلی روزے کی نیت کی، کیونکہ رمضان میں کھانا طلب کرنے کا سوال ہی نہیں، اس سے معلوم ہوا کہ نفلی روزے کی صحت کے لئے رات میں ہی نیت کرنا ضروری نہیں ہے۔
رہا زبان سے نیت کرنے کا مسئلہ، تو نیت دل کے ارادے کا نام ہے، اور رسول اللہ ﷺ سے زبان سے روزہ کی نیت کرنا ثابت نہیں، اس واسطے دل سے ارادہ کرلینا ہی کافی ہے، مخصوص الفاظ کے ساتھ زبان سے نیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، محققین علماء نےاسے بدعت قرار دیا ہے.

نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد سوم، صفحہ: 158- 159.

🌹ہر روزہ کے لئے نیت ضروری ہے🌹

سوال:شروع رمضان میں ہی پورے مہینے کے روزوں کی نیت کرلینا کافی ہے یا ہر روزہ کے لئے الگ الگ نیت کرنی ضروری ہے؟
جواب: ہر روزہ کے لئے الگ الگ نیت ضروری ہے، شروع میں پورے مہینے کے روزوں کی نیت کر لینا کافی نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”مَنْ لَمْ يُجْمِعِ الصِّيَامَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلاَ صِيَامَ لَهُ“
جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہیں کی اس کا روزہ نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ ہر روز فجر سے پہلے روزہ کی نیت کرنا ضروری ہے۔

نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد سوم، صفحہ: 160.

RELATED ARTICLES

Shaitan ka pehla mission kya hai

حوا کی بیٹی تیرے سر کا آنچل کس نے سرکا دیا؟شیطان کا اول مشن ہی یہی ہے

Zindagi ka tajurba kaise karen

ایک 50 سالہ شریف آدمی ڈپریشن کا شکار تھا اور اس کی بیوی نے ایک ماہر نفسیات...

Ek gareeb ki ladki

غریب کی لڑکی ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ...

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Shaitan ka pehla mission kya hai

حوا کی بیٹی تیرے سر کا آنچل کس نے سرکا دیا؟شیطان کا اول مشن ہی یہی ہے

Zindagi ka tajurba kaise karen

ایک 50 سالہ شریف آدمی ڈپریشن کا شکار تھا اور اس کی بیوی نے ایک ماہر نفسیات...

Ek gareeb ki ladki

غریب کی لڑکی ایک دوست کہنے لگا کہ میرا رشتہ ہوگیا ہے مگر میں نے وہ رشتہ...

lailatul qadr kab aati hai

لیلۃ القدر کی اہمیت و فضیلت پہ ایک مکمل سورت نازل ہوئی ہے جس سے اس کی...

Recent Comments

Translate »