Shabe Qadr

0
772

شب قدر کی دعا اور عبادت

سوال: شب قدر کی خاص دعا اور عبادت کیا ہے؟
جواب:شب قدر کی خاص عبادت قیام اللیل ہے، اس کی فضیلت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ“(متفق عليه(《١》)
جو شخص شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب حاصل کرنے کی نیت سے قیام کرے گا اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے.
اگرچہ قیام اللیل سے عموما تہجد اور تراویح کی نماز مراد لی جاتی ہے، مگر رات جاگ کر کوئی بھی عبادت کرنا اس میں داخل ہے۔
رہی اس رات کی دعا تو حضرت عائشہ رضي الله عنها فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اگرمجھے شب قدر کا علم ہوجائے تو کون سی دعا پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دعا پڑھو: ”اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ،فَاعْفُ عَنِّي“(رواه احمد《٢》 وابن ماجه《٣》والترمذي《٤》وصححه الألباني《٥》)
اے اللہ! تو عفوو درگذر کو پسند کرتا ہے، پس ہم کو معاف فرما اور عفوو درگذر سے کام لے۔

(١) صحيح البخاري: 4/255[2014] کتاب فضل ليلة القدر، باب فضل ليلة القدر، صحيح مسلم:1/523[759]کتاب صلاة المسافرين وقصرها،باب الترغيب في قيام رمضان وهو التراويح.
(٢) مسند احمد: 6/171.
(٣) سنن ابن ماجه: 2/1265 [3850] کتاب الدعاء، باب الدعا بالعفو والعافية.
(٤) سنن الترمذي: 5/534 [3513] کتاب الدعوات، باب 85.
(٥) انظر صحيح سنن الترمذي: 3/170 [2789].

نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد سوم، صفحہ: 246- 247.

حائضہ شب قدر میں کیا کرے

سوال: حائضہ عورت رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں کیا کرے کہ وہ شب قدر کی برکات وفضائل سے محروم نہ رہے؟
جواب: شب قدر کی فضیلتوں اور برکتوں کو حاصل کرنے کے لئے اسے دعاؤں ، ذکر و اذکار ، تسبیح و تہلیل اور توبہ و استغفار میں مشغول رہنا چاہئے، وعظ و نصیحت کی باتیں سننی چاہئے، قرآن کی تلاوت کو توجہ اور غور سے سننا چاہئے، وہ علمی کتابوں کا مطالعہ بھی کر سکتی ہے، اس طرح ان شاء اللہ اسےاس رات کی فضیلت حاصل ہوجائے گی، اس حالت میں اسے نماز اور تلاوت کلام پاک سے اجتناب کرنا چاہئے۔

نعمة المنان مجموع فتاوى فضيلة الدكتور فضل الرحمن: جلد سوم، صفحہ: 250.ht

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here