Thursday, January 20, 2022
Homeacchi batenShadi se pahele bete ko kya nasihat den

Shadi se pahele bete ko kya nasihat den

Shadi se pahele bete ko kya nasihat den

شادی سے پہلے بیٹیوں کو تو ہم نصیحت کرتے ہیں، وہ خود بھی پوچھا کرتی ہیں لیکن بیٹوں کو کیا سمجھائیں؟

دیکھیں، دو چار دن کی بات تو ہے نہیں کہ جیسے تیسے گزار لیا جائے۔ آپ کا حق ہے خوشیوں پر۔ اور ہمیشہ کوئی بڑی خوشی دروازے پر دستک نہیں دیتی۔

خود ہی زندگی سے چھوٹی چھوٹی خوشیاں کشید کرنی پڑتی ہیں۔ ہفتے بھر کا بھی سفر ہو تو پوری پلاننگ کی جاتی ہے، انجانی راہوں پر زندگی کا ایک نیا سفر بیٹھے بٹھائے تھوڑی شروع کر دینا ہے۔

ایک تو یہ بات جان رکھیے کہ اب تک آپ جو مرضی کر رہے تھے، خیر تھی۔ اب آپ کا رتبہ بڑھنے والا ہے۔ آپ قوام بننے والے ہیں۔

جب رتبہ بڑا ہوتا ہے تو ذمہ داری بھی زیادہ ہوا کرتی ہے۔

اب بڑا بن کے دکھانا ہے۔ آپ نگہبان ہیں۔ حدیث کے مطابق اپنے زیرِ اثر لوگ آپ کی رعایا جیسے ہیں جن کے متعلق آپ سے سوال ہوگا۔

بس اس بات کو یاد رکھیں گے تو زیادتی نہیں کریں گے، ان شا اللہ۔ ہمارے معاشرے میں بیوی کا خیال رکھنے والے کو ‘زن مرید، نیچے لگا ہوا’ جیسے طعنے دینا عام ہے۔ مسکرا کے سہہ جائیں۔ نئی خوبصورت بنیاد رکھیے۔

قوام یعنی نگہبان جس سے عورت کو safety, security, support ملے۔ اسے ڈرا کے نہ رکھیں، بلکہ ایسے رکھیے کہ کسی بھی ڈر خوف میں خود کو آپ کے پاس محفوظ جانے۔

آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ کسی کے گھر باتھ روم تک جانے میں انسان بہت ان کمفرٹیبل ہوتا ہے۔ کسی کے گھر سونا پڑے تو رات بھر ٹھیک سے آنکھ نہیں لگتی۔

اب اس لڑکی کا سوچیے جو ایک انجان گھر میں اپنی فیملی، دوست یار، اپنا کمرہ، بستر، پسند ناپسند سب کچھ پیچھے چھوڑ کر یہاں آئی ہے۔

اسے وقت دیجیے کہ وہ آپ کے گھر کے طور طریقے اپنا سکے۔ لچک کا مظاہرہ کریں۔

ہمارے گھروں میں بیٹیوں کو بڑے لاڈ سے بڑا کیا جاتا ہے۔ امی سے ڈانٹ پڑ بھی جائے، مرد کی ڈانٹ کم ہی بہنوں بیٹیوں نے سنی ہوتی ہے۔

وہ آپ کی بات بھی چیخنے چلانے کے بغیر سمجھ لے گی۔ چھوٹی موٹی تو جانے ہی دیجیے، لیکن جہاں غلطی کرے، اس سے بات کریں۔

آپس میں ہیلتھی ڈسکشن کا سلسلہ ضرور استوار کیجیے۔ حکم دینے کے بجایے معاملہ سامنے رکھیے، اپنی کہیے، اس کی سنیے۔

ٹھوک بجا کر معاملات پر بات ہونی چاہیے، حتمی فیصلہ بہرحال آپ ہی کیجیے۔ مرد کو مضبوط ہونا چاہیے۔

جھگڑے کی صورت میں مرد بالکل چپ رہنا چاہتا ہے اور عورت دل کی بھڑاس نکالنا چاہتی ہے۔

ڈسکشن سے کوئی ایسا درمیانہ راستہ نکالیے کہ فریقین میں سے ایک ہی ہر بار صبر نہ کرے۔

ممکن ہے کہ آپ شادی سے پہلے کسی اور کے لئے پسندیدگی رکھتے ہوں۔ یا تو آپ کو پھر اتنا مضبوط ہونا چاہیے تھا کہ کچھ ہوجائے، شادی وہیں کریں۔

جس بھی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا، اب اسے ماضی کا حصہ جان کر آگے بڑھ جائیں۔ اب یہی عورت آپ کی محبتوں کی حقدار ہے جو دنیا تیاگ کر آپ کے پہلو میں موجود ہے۔

اس کے ساتھ شرارت کریں، فلرٹ کریں، بیویوں پر بنے فضول لطیفے سنانے کے بجائے کوئی اچھا شعر یا گانا بہتر ہے۔

بالکل جیسے آپ کو صاف ستھری بیوی اچھی لگتی ہے، بیوی کا بھی حق ہے کہ آپ hygiene کا خیال رکھیں۔ اس کے پاس صاف ستھرے ہو کر جائیے۔ اپنے لمحات خوبصورت بنائیے۔ Make her feel loved, not used.

انسان کا روٹ ورڈ نسیان (بھول جانا) یا انس (محبت) سے نکلا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ اچھا پہننے اوڑھنے کو دیا ہوا ہے، تین چار ماہ بعد کہیں گھمانے لے جاتا ہوں، اتنا کافی ہے۔

تو نہیں! خود کو اے ٹی ایم کارڈ مت بنایئے۔ آپ کا درجہ اس سے بہت اوپر ہے۔ محبت دیجیے۔ عزت دیجیے۔ درگزر کا معاملہ کیجیے۔

شادی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے گھر والوں کا حق اب رہا ہی نہیں۔ کام سے واپس آ کر کچھ دیر امی ابو کے پاس بیٹھیے۔

انہیں وقت دیجیے۔ ساتھ نہیں رہتے تو کال کرنے کا اہتمام کیجیے۔ اس مل بیٹھنے کو روز کی چغلی میٹنگ نہ بننے دیں۔ سہولت سے کہہ دیں کہ آپ سکون اور دعا پانے کے لئے ان کے پاس بیٹھتے ہیں۔

بیوی کے ساتھ بھی ہمہ وقت یہی موضوع زیر گفتگو نہ ہو۔

آپ کے ساس سسر نے کئی سال پال پوس کر اپنی اولاد آپ کے حوالے کی ہے۔ ان کا احترام کریں۔ بیوی بھی آپ کے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ رکھے۔

پیریڈز کے دنوں میں جسمانی اور جذباتی طور پر عورت کمزور محسوس کرتی ہے۔ اسی طرح حمل کے دوران، بچے کی پیدائش، پوسٹ پارٹم۔۔

ان دنوں میں عورت کے اندر بہت کچھ چل رہا ہوتا ہے۔ اگر تھوڑی احتیاط کر لیں تو اچھا ہو جائے۔

آپ کی زندگی میں اس وقت چار چیزیں ہیں جن کے بیچ آپ کو اعتدال رکھنا ہو گا۔ اپنی فیملی، دلہن، دوست، جاب۔ یہ بیلینس رکھیے

کہ سارا وقت، توجہ، محبت، پیسہ ایک ہی طرف نہ لڑھکے یا کوئی ایک ان سے محروم نہ رہ جائے۔ اور سنیے! ان سب کے بیچوں بیچ آپ کی اپنی ذات ہے۔

سب کو سب کچھ مل جائے لیکن آپ خود پر قربانی دیں، یوں ٹھیک نہیں۔ بنیادی ضروریات اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی قربانی نہ دیں۔ خود کو اہم گردانیں۔

https://zeenews.india.com/hindi/lifestyle/marriage-lessons-that-mother-should-give-to-her-daughter/753673#:~:text=%E0%A4%85%E0%A4%AA%E0%A4%A8%E0%A4%BE%20%E0%A4%AD%E0%A5%80%20%E0%A4%B0%E0%A4%96%E0%A5%87%20%E0%A4%96%E0%A5%8D%E0%A4%AF%E0%A4%BE%E0%A4%B2&text=%E0%A4%85%E0%A4%AA%E0%A4%A8%E0%A5%87%20%E0%A4%86%E0%A4%A4%E0%A5%8D%E0%A4%AE%E0%A4%B8%E0%A4%AE%E0%A5%8D%E0%A4%AE%E0%A4%BE%E0%A4%A8%20%E0%A4%95%E0%A5%8B%20%E0%A4%A0%E0%A5%87%E0%A4%B8%20%E0%A4%A8,%E0%A4%86%E0%A4%AA%20%E0%A4%B2%E0%A5%8B%E0%A4%97%20%E0%A4%89%E0%A4%B8%E0%A4%95%E0%A5%87%20%E0%A4%B8%E0%A4%BE%E0%A4%A5%20%E0%A4%B0%E0%A4%B9%E0%A5%87%E0%A4%82%E0%A4%97%E0%A5%87.

script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »