Thursday, January 20, 2022
Homeacchi batenShirk ki burai aur tawheed ki khubiyan

Shirk ki burai aur tawheed ki khubiyan

Shirk ki burai aur tawheed ki khubiyan

یاد رکھو الله پاک اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو معاف نہیں فرماتا

اور شرک کے سوا جسے چاہے معاف فرمادے اور جس نے شرک کیا وہ راہ سے بہت دور بھٹک گیا۔( نساء 115)

یعنی اللہ کی راہ سے بھٹکنا یہ بھی ہےکہ انسان حلال و حرام میں تمیز نہ کرے، چوری کرے،

بےکاری میں مبتلا رہے نماز زوزه چھوڑ بیٹھے۔ بیوی بچوں کی حق تلفی کرنےلگے۔

ماں باپ کی نافرمانی پر تلا رہے لیکن جو شرک کی دلدل میں پھنس گیا

وہ راہ سے زیادہ بھٹک گیا کیونکہ وہ ایک ایسے گناہ میں مبتلا ہوگیا

جس کو حق تعالیٰ بلا توبہ کبھی نہ معاف فرمائے گا۔ شاید اور تمام گناہوں کو اللہ تعالیٰ بلا توبہ معاف بھی فرمادے۔

جب لقمان نے نصیحت کرتے وقت اپنے بیٹے سے کہا بیٹا الله کے ساتھ شریک نہ کرنا۔ شرک یقینًا بڑا بھاری ظلم ہے۔( لقمان: 13)

یعنی اللہ پاک نے حضرت لقمان کو بصیرت عطا فرمائی تھی

اور انہوں نے عقل سے معلوم کیا کہ کسی کا حق کسی کو دے

دینا بڑی بے انصافی ہے پھر جس نے اللہ کا حق الله کی مخلوق میں سے کسی کو دیدیا

اس نے بڑے سے بڑے کا حق ذلیل شخص کو دے دیا کیونکہ الله تعالیٰ سب سے بڑا ہے

اور خدا کے مقابلے میں اس کی مخلوق کی غلامانہ حیثیت ہے۔

جیسے کوئی تاج شاہی ایک چمار کے سر پر رکھ دے بھلا اس سے بڑھ کر اور کیا بے انصافی ہوگی۔

آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہم نے اس کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی حقدار عبادت نہیں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔( انبیاء: 25)

یعنی تمام پیغمبر خدا کے پاس سے یہی حکم لیکر آئے کہ صرف اللہ ہی کو مانا جائے

اور اس کے سوا کسی کو نہ مانا جائے۔

معلوم ہوا کہ توحید کا حکم اور شرک سے ممانعت تمام شریعتوں کا ایک متفقہ مسئلہ ہے

اس لیے صرف یہی راہ نجات ہے باقی تمام راہیں غلط اور ٹیڑھی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

کہ حق تعالیٰ نے فرمایا میں تمام ساجھیوں میں سب سے زیادہ ساجھے سے بے پرواہ ہوں۔

جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس میں اس نے میرے ساتھ غیر کو شریک کیا

تو میں اس کو اور اس کے ساجھے کو چھوڑ دیتاہوں

اور میں اس سے بیزار ہوجاتا ہوں

الست بربکم والی آیت شریفہ کا ترجمہ:

اور جب آپ کے رب نے بنی آدم کی پشت سے ان کی اولاد نکالی اور ان سے اقرار کروایا

(یعنی پوچھا)کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں وہ کہنےلگے کیوں نہیں!

ہم گواہ ہیں(کہ تو ہمارا رب ہے)یہ ہم اقرار اس لیے لیا کہ کہیں تم قیامت کے روز کہنے لگو

کہ ہم تو اس بات سے غافل تھے یا کہنے لگو کہ ہمارے باپ دادوں نے پہلے سے شرک کیا تھا

اور ہم تو ان کی اولاد تھے(جو)ان کےبعد( پیدا ہوئے )تو کیا جو کام اہل باطل کرتےرہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتاہے۔

ابی بن کعب نے اس آیت( کہ جب آپ کے رب نے آدم کی اولاد سے عہد لیا )کی تفسیر میں فرمایا

کہ اللہ پاک نے اولاد آدم کو جمع فرمایا پھر انہیں جوڑا جوڑا لگایا پھر ان کی صورتیں بنائیں

پھر انہیں قوت گویائی بخشی آخرکار وہ بولنے لگے پھر ان سے عہد و پیمان لیا

اور انہیں ان کے نفسوں پر گواہ بناکر فرمایا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں

انہوں نے جواب دیا کہ بےشک آپ ہمارے رب ہیں۔ فرمایا

میں ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو تم پر گواہ بناتا ہوں

اور تمہارے باپ آدم( علیہ السلام )کو بھی کبھی قیامت کے دن یہ نہ کہنے لگو کہ ہم بےخبر تھے۔

یقین مانو کہ نہ میرے سوا کوئی معبود ہے اور نہ کوئی رب ہے۔

میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرنا میں تمہارےپاس اپنے رسول بھیجتا رہوں گا

جو تمہیں میرا یہ عہد و پیمان یاد دلائیں گے اور تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا۔

سب نے جواب دیا کہ ہم اقرار کرچکے ہیں کہ آپ ہمارے رب اور معبود ہیں

اپ کے سوا نہ کوئی ہمارا رب ہے اور نہ آپ کے علاوہ ہمارا کوئی معبود ہے۔( مسند احمد، مشکوۃ باب الایمان بالقدر )

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا

کہ حق تعالیٰ نے فرمایا اے آدم کے بیٹے اگر تو مجھ سے دنیا بھر کے گناہ کے ساتھ لےکر ملے

مگر میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں دنیا بھر کی بخشش تجھ سے لےکر ملوں گا۔

( ترمذی، مشکوۃ، باب الاستغفار )

حضورﷺ نے فرمایا: جو خدا اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو وہ مہمان کی عزت کرے۔( بخاری)

https://en.wikipedia.org/wiki/Tawhid

script async src="https://pagead2.googlesyndication.com/pagead/js/adsbygoogle.js">
RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

Recent Comments

Translate »